السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
حدیث نمبر: 11524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا أَعْطَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسٍ، وَلَا تَظْلِمُوا، وَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: ”کسی انسان کے لیے اس کے بھائی کے مال سے کوئی چیز حلال نہیں ہے مگر جو وہ خوشی سے دے اور نہ تم ظلم کرو اور نہ میرے بعد کفر میں لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جاؤ۔“