السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
حدیث نمبر: 11526
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فِي حَجَّتِهِ، وَقَالَ فِيهَا: " أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ وَدِيعَةٌ فَلْيَرُدَّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایام تشریق میں نبی کریم ﷺ کے خطبہ حج کی حدیث بیان کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کے پاس کوئی چیز ہو وہ اسے لوٹا دے، جس کی امانت ہے۔ اے لوگو! کسی کے لیے اپنے بھائی کے مال سے کچھ بھی حلال نہیں مگر جو وہ خوشی سے دے۔“