السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: لا يملك أحد بالجناية شيئا جنى عليه إلا أن يشاء هو والمالك باب: کوئی شخص اپنے جرم (نقصان پہنچانے) کی وجہ سے اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جس کا اس نے نقصان کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ اور مالک دونوں یہ چاہیں۔
حدیث نمبر: 11529
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " أَنَّهُمْ كَانُوا ⦗١٦٢⦘ يَجْعَلُونَ فِي كُلِّ بَهِيمَةٍ أُصِيبَتْ مَا بَيْنَ قِيمَةِ الْبَهِيمَةِ صَحِيحَةِ الْعَيْنِ وَمُصَابَةِ الْعَيْنِ، وَكُلُّ مَا أُصِيبَ مِنَ الْبَهِيمَةِ فَعَلَى قَدْرِ ذَلِكَ " قَالَ عِيسَى بْنُ مِينَاءٍ: فَأَمَّا جِرَاحُ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ جِرَاحَ الْعَبْدِ تَجْرِي جِرَاحُهُ كُلُّهَا فِي قِيمَتِهِ يَوْمَ يُصَابُ كَمَا تَجْرِي جِرَاحُ الْحُرِّ فِي دِيَتِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابو زناد رحمہ اللہ اپنے باپ رحمہ اللہ سے اور وہ فقہائے اہل مدینہ رحمہ اللہ علیہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ہر جاندار جس کو زخم لگا ہوتا تو صحیح اور زخمی میں قیمت کا تعین کرتے تھے۔ ہر زخمی جانور کو وہ اس طرح مقرر کرتے تھے۔ عیسیٰ بن حسینا رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زخمی غلام (یعنی اس کے زخم کو) اس کی قیمت میں اس دن شمار کرتے تھے جس دن وہ زخمی ہو، جیسے آزاد کے زخم کو دیت میں جاری کیا جاتا ہے۔