کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عمرہ کرنے والا احرام باندھنے سے لے کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے تک، اور بال منڈوانے یا کٹوانے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَقَعُ بِامْرَأَتِهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] " قَالَ عُمَرُ: وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: " لَا يَقْرَبْهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا لیکن صفا و مروہ کا طواف نہ کیا بلکہ اس نے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور صفا و مروہ کا طواف کیا، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نمونہ ہے۔“ عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ صفا و مروہ کا طواف کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9804
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 387»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا اعْتَمَرَ فَغَشِيَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ بَعْدَمَا طَافَ بِالْبَيْتِ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَقُلْتُ: فَأِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " جَزُورٌ، أَوْ بَقَرَةٌ "، قُلْتُ: فَأِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " جَزُورٌ " خَالَفَهُ أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبشر، حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمرہ کیا، بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد اور صفا و مروہ کے طواف سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔ میں نے پوچھا: افضل کون سا ہے؟ فرمانے لگے: اونٹ یا گائے۔ میں نے کہا: پھر کون سا افضل ہے؟ فرمانے لگے: اونٹ۔ ایوب رحمہ اللہ نے حضرت سعید رحمہ اللہ سے مخالفت کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9805
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي تَوْبَةَ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ النَّجَّارُ الْآمُلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَهَلَّ هُوَ وَامْرَأَتُهُ جَمِيعًا بِعُمْرَةٍ فَقَضَتْ مَنَاسِكَهَا إِلَّا التَّقْصِيرَ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ "، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا تَسْمَعُ، فَاسْتَحْيَا مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: " أَلَا أَعْلَمْتُمُونِي؟ "، وَقَالَ ⦗٢٨١⦘ لَهَا: " أَهْرِيقِي دَمًا "، قَالَتْ: مَاذَا؟ قَالَ: " انْحَرِي نَاقَةً، أَوْ بَقَرَةً، أَوْ شَاةً "، قَالَتْ: أِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " نَاقَةٌ " وَلَعَلَّ هَذَا أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے عمرہ کے مناسک ادا کر لیے، لیکن بال کتروانے باقی تھے، مرد نے بیوی سے بال کتروانے سے پہلے مجامعت کر لی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، فرمانے لگے: یہ تو کثیر الشہوت ہے، جب ان سے کہا گیا: وہ سن کر حیا محسوس کر رہے تھے اور فرمانے لگے: کیا تم مجھے اس کے بارے میں بتاتے ہو؟ فرمانے لگے: قربانی دو، عورت نے کہا: کیا؟ فرمایا: اونٹ یا گائے یا بکری کی قربانی کرو، کہنے لگی: افضل کیا ہے؟ فرمایا: اونٹنی شاید یہ زیادہ مناسب ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9806
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
فَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى امْرَأَتَهُ فِي عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ فَجَعَلَ يَقْرِضُ شَعْرَهَا بِأَسْنَانِهِ، قَالَ: " إِنَّهُ لَشَبِقٌ يُهْرِيقَ دَمًا " كَذَا قَالَ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حکم سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے حالت عمرہ میں مجامعت کرلی، اس نے کہا: میں بال نہ کترواؤں گی، تو وہ اپنے دانتوں سے اس کے بال کاٹنے لگے۔ فرمانے لگے: یہ کثیر الشہوۃ ہے، وہ ایک خون بہائے۔ اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9807
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن الجعد 152»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَأَلَ الْحَسَنَ عَنِ امْرَأَةٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَةً فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ، قَالَ: " لِتُهْدِي هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً " قَالَ حُمَيْدٌ: وَذَكَرَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ "، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْمَرْأَةَ شَاهِدَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ: " لِتُهْدِيَنَّ هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً ".
حافظ ثناء اللہ
حمید نے سیدنا حسن رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ ایک عورت عمرہ کے لیے آئی، اس نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر لیا، لیکن بال کٹوانے سے پہلے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کر لی۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دے۔
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ یہ «كَثِيرُ الشَّهْوَةِ» ”بہت زیادہ شہوت والا“ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9808
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»