کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اپنے عمرے کو فاسد کرنے والا اس کی قضا وہیں سے کرے جہاں سے اس نے فاسد کیے گئے عمرے کا احرام باندھا تھا، اور اپنے حج کو فاسد کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 9809
رُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مُحْرِمٍ بِحَجَّةٍ أَصَابَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ، قَالَ: " يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ مِنْ حَيْثُ كَانَا أَحْرَمَا " وَرُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَمَّا مَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ عَائِشَةَ رَفَضَتْ عُمْرَتَهَا ثُمَّ أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ تَقْضِيَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَقَدْ دَلَّلْنَا فِيمَا مَضَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَهَا بِإِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ فَكَانَتْ قَارِنَةً، وَإِنَّمَا كَانَتْ عُمْرَتُهَا شَيْئًا اسْتَحَبَّتْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں عطاء سے، انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں روایت کیا گیا ہے جو حالتِ احرامِ حج میں ہو اور اپنی بیوی سے صحبت کر لے جبکہ وہ بھی احرام میں ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ دونوں اپنے اس حج کو پورا کریں اور ان پر آئندہ سال اسی جگہ سے حج کرنا فرض ہے جہاں سے انہوں نے (پہلے) احرام باندھا تھا۔“
اور یہی مضمون ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
رہے وہ لوگ جو اس بات کی طرف گئے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا عمرہ فسخ (ترک) کر دیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں تنعیم سے اس کی قضا کرنے کا حکم دیا تھا، تو ہم نے سابقہ دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں صرف عمرے پر حج داخل کرنے کا حکم دیا تھا جس کی بنا پر وہ قارنہ (قران کرنے والی) بن گئی تھیں، اور (بعد میں تنعیم سے) ان کا عمرہ کرنا محض ایک ایسا عمل تھا جسے انہوں نے پسند فرمایا تھا۔
اور یہی مضمون ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
رہے وہ لوگ جو اس بات کی طرف گئے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا عمرہ فسخ (ترک) کر دیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ نے انہیں تنعیم سے اس کی قضا کرنے کا حکم دیا تھا، تو ہم نے سابقہ دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں صرف عمرے پر حج داخل کرنے کا حکم دیا تھا جس کی بنا پر وہ قارنہ (قران کرنے والی) بن گئی تھیں، اور (بعد میں تنعیم سے) ان کا عمرہ کرنا محض ایک ایسا عمل تھا جسے انہوں نے پسند فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 9809
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " طَوَافُكِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَكْفِيكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی تیرے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 9810
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَكْفِيكَ طَوَافٌ وَاحِدٌ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے ایک طواف کافی ہے حج و عمرہ کی پہچان کے بعد۔“
حدیث نمبر: 9811
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، وَحَاضَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ: " سَعْيُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ " فَأَبَتْ فَبَعَثَ مَعَهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا، لیکن بیت اللہ کے طواف سے پہلے حائضہ ہو گئیں، باقی سارے مناسک ادا کیے۔ انہوں نے حج کا تلبیہ کہا تو نبی ﷺ نے نفر کے دن ان سے فرمایا: ”حج و عمرہ کے لیے ایک طواف کافی ہے“ لیکن انہوں نے انکار کر دیا، تب نبی ﷺ نے ان کے ساتھ ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو مقامِ تنعیم تک روانہ کیا، پھر انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔