السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المعتمر لا يقرب امرأته ما بين أن يهل إلى أن يكمل الطواف بالبيت وبين الصفا والمروة وقبل أن يحلق أو يقصر باب: عمرہ کرنے والا احرام باندھنے سے لے کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے تک، اور بال منڈوانے یا کٹوانے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے۔
حدیث نمبر: 9807
فَقَدْ أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى امْرَأَتَهُ فِي عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُقَصِّرْ فَجَعَلَ يَقْرِضُ شَعْرَهَا بِأَسْنَانِهِ، قَالَ: " إِنَّهُ لَشَبِقٌ يُهْرِيقَ دَمًا " كَذَا قَالَ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ.حافظ ثناء اللہ
حکم سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے حالت عمرہ میں مجامعت کرلی، اس نے کہا: میں بال نہ کترواؤں گی، تو وہ اپنے دانتوں سے اس کے بال کاٹنے لگے۔ فرمانے لگے: یہ کثیر الشہوۃ ہے، وہ ایک خون بہائے۔ اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ نہیں ہے۔