السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المعتمر لا يقرب امرأته ما بين أن يهل إلى أن يكمل الطواف بالبيت وبين الصفا والمروة وقبل أن يحلق أو يقصر باب: عمرہ کرنے والا احرام باندھنے سے لے کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے تک، اور بال منڈوانے یا کٹوانے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے۔
حدیث نمبر: 9806
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي تَوْبَةَ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ حَاتِمٍ النَّجَّارُ الْآمُلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا أَهَلَّ هُوَ وَامْرَأَتُهُ جَمِيعًا بِعُمْرَةٍ فَقَضَتْ مَنَاسِكَهَا إِلَّا التَّقْصِيرَ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ فَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ "، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا تَسْمَعُ، فَاسْتَحْيَا مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: " أَلَا أَعْلَمْتُمُونِي؟ "، وَقَالَ ⦗٢٨١⦘ لَهَا: " أَهْرِيقِي دَمًا "، قَالَتْ: مَاذَا؟ قَالَ: " انْحَرِي نَاقَةً، أَوْ بَقَرَةً، أَوْ شَاةً "، قَالَتْ: أِيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " نَاقَةٌ " وَلَعَلَّ هَذَا أَشْبَهُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے عمرہ کے مناسک ادا کر لیے، لیکن بال کتروانے باقی تھے، مرد نے بیوی سے بال کتروانے سے پہلے مجامعت کر لی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، فرمانے لگے: یہ تو کثیر الشہوت ہے، جب ان سے کہا گیا: وہ سن کر حیا محسوس کر رہے تھے اور فرمانے لگے: کیا تم مجھے اس کے بارے میں بتاتے ہو؟ فرمانے لگے: قربانی دو، عورت نے کہا: کیا؟ فرمایا: اونٹ یا گائے یا بکری کی قربانی کرو، کہنے لگی: افضل کیا ہے؟ فرمایا: اونٹنی شاید یہ زیادہ مناسب ہو۔