السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المعتمر لا يقرب امرأته ما بين أن يهل إلى أن يكمل الطواف بالبيت وبين الصفا والمروة وقبل أن يحلق أو يقصر باب: عمرہ کرنے والا احرام باندھنے سے لے کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے تک، اور بال منڈوانے یا کٹوانے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب نہ جائے۔
حدیث نمبر: 9808
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَأَلَ الْحَسَنَ عَنِ امْرَأَةٍ قَدِمَتْ مُعْتَمِرَةً فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تُقَصِّرَ، قَالَ: " لِتُهْدِي هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً " قَالَ حُمَيْدٌ: وَذَكَرَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَشَبِقَةٌ "، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْمَرْأَةَ شَاهِدَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ: " لِتُهْدِيَنَّ هَدْيًا بَعِيرًا أَوْ بَقَرَةً ".حافظ ثناء اللہ
حمید نے سیدنا حسن رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ ایک عورت عمرہ کے لیے آئی، اس نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر لیا، لیکن بال کٹوانے سے پہلے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کر لی۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دے۔
(ب) حمید بیان کرتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ یہ «كَثِيرُ الشَّهْوَةِ» ”بہت زیادہ شہوت والا“ ہے۔ ان سے کہا گیا کہ عورت موجود ہے، وہ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا کہ وہ اونٹ یا گائے کی قربانی پیش کرے۔