کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو تحللِ اول (پہلی بار حلال ہونے) کے بعد اور تحللِ ثانی سے پہلے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ، قَالَ: " عِنْدَكَ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ إِنِّي مُوسِرٌ، قَالَ: " فَانْحَرْ نَاقَةً سَمِينَةً فَأَطْعِمْهَا الْمَسَاكِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: جس نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تھی، انہوں نے فرمایا: تو کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ وہ کہنے لگا: میں مالدار ہوں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک موٹی تازی اونٹنی ذبح کر کے مساکین کو کھلا دو۔
وَرَوَاهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي رَجُلٍ قَضَى الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ وَاقَعَ، قَالَ: عَلَيْهِ بَدَنَةٌ وَتَمَّ حَجُّهُ " أَنْبَأَنِيهِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِيَادٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أنبأ ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: ثنا سَلَمَةُ بْنُ جُنَادَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے بیت اللہ کے طواف کے سوا تمام مناسک ادا کر لیے، پھر (اپنی بیوی سے) مجامعت کر لی، تو انہوں نے فرمایا: اس پر ایک اونٹ (کی قربانی) لازم ہے اور اس کا حج مکمل ہو گیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبِيدَةُ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: " يَنْحَرَانِ جَزُورًا بَيْنَهُمَا وَلَيْسَ عَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لی، آپ نے فرمایا: وہ دونوں مل کر ایک اونٹ قربان کریں، لیکن آئندہ سال ان پر حج نہ ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يُصِيبُ أَهْلَهُ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ: " يَعْتَمِرُ وَيُهْدِي " قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن زید دیلمی حضرت عکرمہ جو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں ان سے بیان کرتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو طوافِ افاضہ کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرے تو وہ فرمانے لگے: وہ عمرہ کرے گا اور قربانی کرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ⦗٢٨٠⦘ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، قَالَ مَالِكٌ: عَلَيْهِ عُمْرَةٌ وَبَدَنَةٌ وَحَجُّهُ تَامٌّ، وَرَوَاهُ عَنْ رَبِيعَةَ فَتَرَكَ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ لِرَأْيِ رَبِيعَةَ، وَرَوَاهُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ يَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْقَوْلِ فِي عِكْرِمَةَ لَا يَرَى لِأَحَدٍ أَنْ يَقْبَلَ حَدِيثَهُ، وَهُوَ يَرْوِي بِيَقِينٍ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خِلَافَهُ، وَعَطَاءٌ ثِقَةٌ عِنْدَهُ وَعِنْدَ النَّاسِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَاهُ عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے سوال ہوا کہ محرم آدمی جو منیٰ میں ہے طوافِ افاضہ سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے، انہوں نے حکم دیا کہ وہ ایک اونٹ قربان کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ: اسی چیز کو ہم اختیار کریں گے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ عمرہ اور اونٹ کی قربانی ہے اور اس کا حج مکمل ہے۔
(ب) ربیعہ رحمہ اللہ سے منقول ہے اور انہوں نے ربیعہ کی رائے کی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو چھوڑ دیا ہے۔
اور امام مالک نے اسے ثور بن زید سے، انہوں نے عکرمہ سے، اس گمان کے ساتھ روایت کیا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے، حالانکہ امام مالک عکرمہ کے بارے میں سخت رائے رکھتے ہیں اور کسی کے لیے اس کی حدیث قبول کرنا درست نہیں سمجھتے، جبکہ وہ یقین کے ساتھ عطاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف روایت کرتے ہیں، اور عطاء ان کے نزدیک بھی اور لوگوں کے نزدیک بھی ثقہ ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: ہم نے یہ بات اہلِ مدینہ کے فقہاء سے بھی روایت کی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ: اسی چیز کو ہم اختیار کریں گے، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمہ عمرہ اور اونٹ کی قربانی ہے اور اس کا حج مکمل ہے۔
(ب) ربیعہ رحمہ اللہ سے منقول ہے اور انہوں نے ربیعہ کی رائے کی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کو چھوڑ دیا ہے۔
اور امام مالک نے اسے ثور بن زید سے، انہوں نے عکرمہ سے، اس گمان کے ساتھ روایت کیا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے، حالانکہ امام مالک عکرمہ کے بارے میں سخت رائے رکھتے ہیں اور کسی کے لیے اس کی حدیث قبول کرنا درست نہیں سمجھتے، جبکہ وہ یقین کے ساتھ عطاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف روایت کرتے ہیں، اور عطاء ان کے نزدیک بھی اور لوگوں کے نزدیک بھی ثقہ ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: ہم نے یہ بات اہلِ مدینہ کے فقہاء سے بھی روایت کی ہے۔