کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جسے دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا حق نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيِّنٌ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ السِّجْزِيُّ إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: " مَنْ شُبْرُمَةُ " فَذَكَرَ أَخًا لَهُ أَوْ قَرَابَةً، قَالَ: " أَحَجَجْتَ قَطُّ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ لَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ مِنْهُ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَهَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ عَنْ عَبْدَةَ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: أَثْبَتُ النَّاسِ سَمَاعًا مِنْ سَعِيدٍ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي عَنْ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں“ تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا کہ میرا قریبی یا کہا: میرا بھائی ہے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے خود بھی کبھی حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر یہ حج اپنی طرف سے کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“
یہ سند صحیح ہے، اس باب میں اس سے زیادہ صحیح کوئی سند نہیں۔
یہ سند صحیح ہے، اس باب میں اس سے زیادہ صحیح کوئی سند نہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: " مَنْ شُبْرُمَةُ؟ " فَقَالَ: أَخِي أَوْ ذُو قَرَابَةٍ لِي، فَقَالَ: " حَجَجْتَ قَطُّ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ ثُمَّ حُجَّ عَنْهُ " وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَرَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا حَافَظٌ ثِقَةٌ فَلَا يَضُرُّهُ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُ وَعَزْرَةُ هَذَا هُوَ عَزْرَةُ بْنُ يَحْيَى..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو پوچھا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی یا قریبی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کبھی حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر یہ حج اپنی طرف سے کر، پھر اس کی طرف سے بعد میں کرنا۔“
غندر نے اسے سعید بن ابی عروبہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، لیکن جس نے اسے مرفوع روایت کیا ہے وہ ثقہ حافظ ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہیں دیتی۔
غندر نے اسے سعید بن ابی عروبہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، لیکن جس نے اسے مرفوع روایت کیا ہے وہ ثقہ حافظ ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہیں دیتی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ، يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى قَتَادَةُ أَيْضًا عَنْ عَزْرَةَ بْنِ تَمِيمٍ، وَعَنْ عَزْرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ فُلَانٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتَ حَجَجْتَ فَلَبِّ عَنْهُ وَإِلَّا فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی طرف سے «لَبَّيْكَ» کہتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”اگر تو نے خود حج کیا ہوا ہے تو اس کی طرف سے «تَلْبِيَة» کہہ وگرنہ اپنی طرف سے حج کرو، پھر اس کی طرف سے کرنا۔“
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا حَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ رَجُلٍ فَقَالَ لَهُ: " لَبَيْتَ عَنْ نَفْسِكِ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَبِّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ لَبِّ عَنْ فُلَانٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَالرِّوَايَةُ الْأُولَى أَوْلَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کسی دوسرے کی طرف سے تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو پوچھا: ”کیا تو نے اپنی طرف سے تلبیہ کہا ہے؟“ کہنے لگا کہ نہیں، تو فرمایا: ”پہلے اپنی طرف سے تلبیہ کہہ، پھر کسی اور کی طرف سے کہنا۔“
یہ روایت عطاء کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اور عطاء سے نبی ﷺ سے مرسل بھی مروی ہے، اور پہلی روایت زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔
یہ روایت عطاء کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اور عطاء سے نبی ﷺ سے مرسل بھی مروی ہے، اور پہلی روایت زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرُّوذِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعَ ⦗٥٥١⦘ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: " حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكِ؟ " فَقَالَ: لَا، قَالَ: " عَنْ نَفْسِكِ فَلَبِّ " قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ وَأَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ وَابْنُ مَخْلَدٍ، قَالُوا: ثنا عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ ثنا الْفِرْيَابِيُّ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں“ کہتے ہوئے سنا تو پوچھا: ”کیا تم نے اپنی طرف سے حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اپنی طرف سے تلبیہ کہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ يَعْنِي ابْنَ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا خَالِدُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ، قَالَ: فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: " هَلْ حَجَجْتَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَذِهِ عَنْكَ وَحُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ ". وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُسْنَدًا، وَرِوَايَةُ مَنْ رَوَى حَدِيثَ عَطَاءٍ مُرْسَلًا أَصَحُّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو اس کو بلا کر فرمایا: ”کیا تو نے حج کیا ہے؟“ کہنے لگا کہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری طرف سے ہے، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کر۔“
جن راویوں نے عطاء کی حدیث کو مرسل روایت کیا ہے ان کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔
جن راویوں نے عطاء کی حدیث کو مرسل روایت کیا ہے ان کی روایت زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: " وَيْلَكَ وَمَا شُبْرُمَةُ " فَقَالَ أَحَدُهُمَا قَالَ: أَخِي، وَقَالَ: الْآخَرُ فَذَكَرَ قَرَابَةً، فَقَالَ: " أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ " هَكَذَا رُوِيَ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں“ کہتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا: ”تیرا ستیاناس! شبرمہ کیا ہے؟“ کہنے لگا: میرا بھائی یا قریبی ہے، تو انہوں نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہے؟“ اس نے کہا کہ نہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”تو یہ حج اپنی طرف سے کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔“
یہ روایت اسی طرح (ابن عباس رضی اللہ عنہما پر) موقوف بیان کی گئی ہے۔
یہ روایت اسی طرح (ابن عباس رضی اللہ عنہما پر) موقوف بیان کی گئی ہے۔
وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ، وَلَمْ يَكُنْ حَجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ ثُمَّ حُجَّ لِنَذْرِكَ بَعْدُ " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ سُلَيْمَانُ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا مُعَاوِيَةُ وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حج کرنے کی نذر مانی اور اس نے فرض حج نہیں کیا ہوا تھا تو اس کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے اسلام کا فرض حج ادا کرو، پھر اپنی نذر کے لیے حج کرنا۔“
اسے سفیان سے صرف معاویہ (بن ہشام) نے روایت کیا ہے۔
اسے سفیان سے صرف معاویہ (بن ہشام) نے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ نُبَيْشَةَ فَقَالَ: " أَيُّهَا الْمُلَبِّي عَنْ نُبَيْشَةَ هَذِهِ عَنْ نُبَيْشَةَ وَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نبیشہ کی طرف سے تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا: ”اے نبیشہ کی طرف سے تلبیہ کہنے والے! یہ حج نبیشہ کی طرف سے ہے اور اپنی طرف سے حج کر۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيٌّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مِدْرَارٍ، ثنا عَمِّي طَاهِرُ بْنُ مِدْرَارٍ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شُبْرُمَةَ؟ " قَالَ: أَخٌ لِي، قَالَ: " هَلْ حَجَجْتَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ " قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالَّذِي قَبْلَهُ وَهْمٌ يُقَالُ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ كَانَ يَرْوِيهِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ إِلَى الصَّوَابِ فَحَدَّثَ بِهِ عَلَى الصَّوَابِ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ غَيْرِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں“ کہتے ہوئے سنا تو اس سے فرمایا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے حج کیا ہے؟“ کہنے لگا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے اور اس سے پہلی روایت وہم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حسن بن عمارہ اسے (اسی طرح) بیان کرتا تھا، پھر اس نے اس سے رجوع کر کے درست طور پر بیان کیا جو دوسروں کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کے موافق ہے، اور وہ ہر حال میں متروک الحدیث ہے۔
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے اور اس سے پہلی روایت وہم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حسن بن عمارہ اسے (اسی طرح) بیان کرتا تھا، پھر اس نے اس سے رجوع کر کے درست طور پر بیان کیا جو دوسروں کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کے موافق ہے، اور وہ ہر حال میں متروک الحدیث ہے۔