❮
❯
حدیث نمبر: 8676
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: " مَنْ شُبْرُمَةُ؟ " فَقَالَ: أَخِي أَوْ ذُو قَرَابَةٍ لِي، فَقَالَ: " حَجَجْتَ قَطُّ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ ثُمَّ حُجَّ عَنْهُ " وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَرَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا حَافَظٌ ثِقَةٌ فَلَا يَضُرُّهُ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُ وَعَزْرَةُ هَذَا هُوَ عَزْرَةُ بْنُ يَحْيَى..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو پوچھا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی یا قریبی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو نے کبھی حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر یہ حج اپنی طرف سے کر، پھر اس کی طرف سے بعد میں کرنا۔“
غندر نے اسے سعید بن ابی عروبہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، لیکن جس نے اسے مرفوع روایت کیا ہے وہ ثقہ حافظ ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہیں دیتی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8676
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»