السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من ليس له أن يحج عن غيره باب: اس شخص کا بیان جسے دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا حق نہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيٌّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مِدْرَارٍ، ثنا عَمِّي طَاهِرُ بْنُ مِدْرَارٍ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شُبْرُمَةَ؟ " قَالَ: أَخٌ لِي، قَالَ: " هَلْ حَجَجْتَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ " قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالَّذِي قَبْلَهُ وَهْمٌ يُقَالُ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ كَانَ يَرْوِيهِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ إِلَى الصَّوَابِ فَحَدَّثَ بِهِ عَلَى الصَّوَابِ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ غَيْرِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ عَلَى كُلِّ حَالٍ.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں“ کہتے ہوئے سنا تو اس سے فرمایا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے حج کیا ہے؟“ کہنے لگا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے اور اس سے پہلی روایت وہم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حسن بن عمارہ اسے (اسی طرح) بیان کرتا تھا، پھر اس نے اس سے رجوع کر کے درست طور پر بیان کیا جو دوسروں کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کے موافق ہے، اور وہ ہر حال میں متروک الحدیث ہے۔