کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: میت کی طرف سے حج کرنے اور اس بات کا بیان کہ واجب حج (کا خرچ) کل ترکے سے ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 8670
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَتَرَكَتِ الْوَلِيدَةَ، قَالَ: " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ " قَالَتْ: فَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ فَيُجْزِئُ أَنْ أَصُومَ عَنْهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَتْ: وَلَمْ تَحُجَّ فَيُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ پر ایک لونڈی کا صدقہ کیا تھا اور وہ فوت ہو گئی ہے اور لونڈی چھوڑ گئی ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اجر واجب ہو گیا اور وہ تیرے پاس بطور وراثت واپس آ گئی ہے۔“ وہ کہنے لگی: ”وہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے روزے ہیں، تو کیا اس کی طرف سے میرا روزہ رکھنا کفایت کر جائے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ اس نے کہا: ”اس نے حج بھی نہیں کیا، تو کیا اس کی طرف سے میرا حج کرنا کفایت کرے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 8671
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 8672
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَعْنِي إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ فَحُجِّي عَنْهَا أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتِهِ؟ " قَالَتْ نَعَمْ، قَالَ: " اقْضُوا حَقَّ اللهِ فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی، لیکن وہ حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اس کی طرف سے حج کر، کیا خیال ہے اگر تیری والدہ پر قرضہ ہوتا تو تو وہ ادا کرتی؟“ کہنے لگی: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کو بھی ادائیگی کرو، وہ وفا کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔“
حدیث نمبر: 8673
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَتَمَالَكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَمَا تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ حُجَّ عَنْهُ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَذَلِكَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِينَا وَلَمْ يُوصِ بِحَجٍّ فَنَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَتُؤْجَرُونَ " قَالَ: وَيُتَصَدَّقُ عَنْهُ وَيُصَامُ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ وَكَذَلِكَ فِي النُّذُورِ وَالْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ " ⦗٥٤٩⦘ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابوغوث بن حصین خثعمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے والد کو اللہ کے فریضۂ حج نے اس حال میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہیں اور اونٹنی پر سوار نہیں رہ سکتے، تو کیا خیال ہے، میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کرو۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اسی طرح ہمارے اہل و عیال میں سے جو بھی فوت ہو جائے جب کہ اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو تو بھی اس کی طرف سے حج کیا جائے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور ان کو اجر ملے گا“، میں نے کہا: ”ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزہ رکھا جائے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور صدقہ افضل ہے، اسی طرح نذریں اور مسجد کی طرف چل کر جانا بھی۔“
حدیث نمبر: 8674
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: الْحَجَّةُ الْوَاجِبَةُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء اور طاؤس رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ فرضی حج «رَأْسِ الْمَالِ» ”اصل مال“ سے کیا جائے گا۔