السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من ليس له أن يحج عن غيره باب: اس شخص کا بیان جسے دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا حق نہیں۔
حدیث نمبر: 8682
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: " وَيْلَكَ وَمَا شُبْرُمَةُ " فَقَالَ أَحَدُهُمَا قَالَ: أَخِي، وَقَالَ: الْآخَرُ فَذَكَرَ قَرَابَةً، فَقَالَ: " أَحَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ " هَكَذَا رُوِيَ مَوْقُوفًا.حافظ ثناء اللہ
ابو قلابہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو «لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ» ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں“ کہتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا ستیاناس! شبرمہ کیا ہے؟“ کہنے لگا: میرا بھائی یا قریبی ہے، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنی طرف سے حج کیا ہے؟“ اس نے کہا کہ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ حج اپنی طرف سے کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔“