کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جو نفلی حج کا احرام باندھے حالانکہ اس نے اسلام کا فرض حج نہ کیا ہو، یا مطلق طور پر احرام باندھے اور کہے: ”میرا احرام فلاں شخص کے احرام جیسا ہے“ اور وہ فلاں شخص حج کا احرام باندھے ہوئے ہو، تو وہ حاجی شمار ہوگا اور یہ اسے فرض حج کی طرف سے کفایت کر جائے گا۔
حدیث نمبر: 8686
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحٌ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فِي نَاسٍ مَعِي، قَالَ: أَهَلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: وَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ "، قَالَ عَطَاءٌ: فَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبُوا النِّسَاءَ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، قَالَ: فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا وَنَأْتِيَ عَرَفَةَ تَقْطُرُ ⦗٥٥٣⦘ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ، قَالَ: وَيَقُولُ جَابِرٌ: بِيَدِهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدِهِ يُحَرِّكُهَا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ ". قَالَ فَأَحْلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَ أَهَلَلْتَ يَا عَلِيُّ؟ " قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَأَهْدِ ثُمَّ امْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " قَالَ فَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا قَالَ: فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ: " لَا بَلْ لِلْأَبَدِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اپنے ساتھ موجود لوگوں میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم یعنی رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صرف حج کے لیے احرام باندھا اور رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کی چار تاریخ کو مکہ پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”احرام کھول دو اور عورتوں سے مباشرت کرو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورتوں سے مباشرت ان کے لیے لازم قرار نہیں دی تھی، بلکہ صرف اس کو حلال قرار دیا تھا، جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ہماری طرف سے یہ خبر پہنچی کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان پانچ دن رہ گئے ہوں تو انھوں نے ہمارے لیے عورتوں کو حلال قرار دے دیا ہے اور ہم عرفہ میں اپنے ذکروں سے منی ٹپکاتے ہوئے پہنچیں گے اور جابر رضی اللہ عنہما اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر رہے تھے، گویا کہ میں اب بھی ان کے ہاتھ کو دیکھ رہا ہوں، حرکت کرتا ہوا، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم کو معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا، سچا اور نیک ہوں، اور اگر ”ہدی“ نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرح حلال ہوجاتا اور اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہوجاتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی کا جانور نہ لے کر آتا۔“ جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تو ہم حلال ہو گئے، ہم نے سنا اور اطاعت کی، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”علی! تو نے کیا تلبیہ کہا ہے؟“ کہنے لگے: جو رسول اللہ ﷺ نے کہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر قربانی لا اور احرام کی حالت میں رہ جس طرح تو ہے۔“ تو علی رضی اللہ عنہ ان کے لیے قربانی لائے، سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ حج تمتع ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8686
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6933۔ مسلم 1213»
حدیث نمبر: 8687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟ " قَالَ: قُلْتُ إِهْلَالٌ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ "، فَانْطَلَقْتُ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى نِسْوَةٍ مِنْ آلِ قَيْسٍ يَعْنِي عَمَّاتِهِ فَمَشَطْنَ رَأْسِي بِالْغُسْلِ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمْتُ حَاجًّا فَبَيْنَا أَنَا أُحَدِّثُ النَّاسَ عِنْدَ الْبَيْتِ بِمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَدِمَ رَجُلٌ فَقَالَ: دُونَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ بِحَدِيثِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ، فَقُلْتُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْ بِهِ حَتَّى يَقْدَمَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَبِهِ ائْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَحَدَثَ فِي النُّسُكِ شَيْءٌ فَغَضِبَ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ: أَجَلْ لَئَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ اللهِ فَقَدْ أَمَرَ اللهُ بِالتَّمَامِ وَأَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّنَا فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو میں آپ ﷺ کو اس سال ملا جس سال آپ ﷺ نے حج کیا تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! جب تو نے احرام باندھا تھا تو کیا کہا تھا؟“ میں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کی طرح کرنے کی نیت کی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو قربانی کا جانور لایا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جا بیت اللہ کا طواف کر اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہو جا۔“ تو میں گیا اور میں نے صفا و مروہ کی سعی کی، پھر میں آلِ قیس کی عورتوں یعنی اپنی پھوپھیوں کے پاس گیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور کنگھی کی، پھر اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں میں حج کرنے کے لیے آیا تو اس دوران کہ میں لوگوں کو وہ بات بتا رہا تھا جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی ایک شخص آیا اور کہنے لگا: بچ کر رہو اپنی اس بات کی بنا پر، آپ کو پتہ نہیں کہ امیر المومنین نے مناسکِ حج میں کیا اضافہ کیا ہے؟ تو میں نے کہا: اے لوگو! جس نے کوئی بھی بات سنی ہے وہ اس کا اعتبار نہ کرے حتیٰ کہ امیر المومنین تشریف لے آئیں، پس انہی کی اقتدا کرو۔ جب عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے کہا: کیا طریقۂ حج میں کوئی نیا حکم جاری ہوا ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ اس بات سے غصے ہوئے، پھر کہا: ہاں اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو اللہ تعالیٰ نے مکمل کرنے کا حکم دیا اور اگر ہم رسول اللہ ﷺ کو لیں تو آپ ﷺ قربانی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8687
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1221»
حدیث نمبر: 8688
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي " كَيْفَ أَهْلَلْتَ "؟ قَالَ: ⦗٥٥٤⦘ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَفِي رِوَايَةِ طَاوُسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يُسَمِّي حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَأَكَّدَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ الْمُرْسَلَةَ بِأَحَادِيثَ مَوْصُولَةٍ رُوِيَتْ فِي إِحْرَامِهِمْ تَشْهَدُ لِرِوَايَةِ طَاوُسٍ بِالصِّحَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا جب آپ بطحا میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے تو آپ نے مجھے کہا: ”تو نے کیسے تلبیہ کہا تھا؟“ میں نے کہا: «لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ ﷺ»۔ آپ نے فرمایا: ”تو نے اچھا کیا ہے، بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر، پھر حلال ہو جا“ اور لمبی حدیث بیان کی۔
(ب) طاؤس کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ مدینہ سے نکلے، نہ آپ نے حج کا نام لیا اور نہ عمرہ کا، آپ فیصلے (وحی) کے منتظر تھے، آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ صفا و مروہ کے درمیان تھے تو جو آپ کے ساتھ تھے انہیں تلبیہ پکارنے کا کہا اور جن کے پاس قربانی نہ تھی تو اس کو عمرہ قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8688
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1484۔ مسلم 1221»
حدیث نمبر: 8689
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ قُومِي عَنِّي فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبِ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ مَعَ هَذَا حَدِيثَ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ثُمَّ فَرَّقَ بِذَلِكَ بَيْنَ الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ وَبَيْنَ الْإِحْرَامِ بِالصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ہم احرام باندھ کر نکلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ حالتِ احرام میں ہی رہے اور جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ حلال ہو جائے“ تو میرے پاس قربانی نہیں تھی تو میں حلال ہو گئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی تھی وہ حلال نہ ہوئے۔ فرماتی ہیں: میں نے اپنے کپڑے پہنے اور جا کر زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گئی، وہ کہنے لگے: میرے پاس سے اٹھ جا تو میں نے کہا: کیا تو اس بات سے ڈرتا ہے کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی؟
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8689
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1236»
حدیث نمبر: 8690
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ لَمْ يَحُجَّ فَحَجَّ يَنْوِي النَّافِلَةَ أَوْ حَجَّ عَنْ رَجُلٍ أَوْ حَجَّ عَنْ نَذْرِهِ قَالَ: " هَذِهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ ثُمَّ يَحُجُّ عَنِ الرَّجُلِ بَعْدُ إِنْ شَاءَ وَعَنْ نَذْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطا رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: جس نے حج نہیں کیا اور وہ حج کرتا ہے تو نفلی حج کی نیت کر لیتا ہے یا کسی اور شخص کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرتا ہے یا اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کی نیت کرتا ہے تو یہ اس کا فرض حج ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر وہ چاہے تو کسی شخص کی طرف سے یا نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8690
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مسند شافعي 507»