کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ماہِ رمضان کی قضا، چاہے تو الگ الگ کر کے رکھے اور چاہے تو لگاتار رکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ ⦗٤٣١⦘ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: وَفِيمَا ذَكَرَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " نَزَلَتْ " فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ مُتَتَابِعَاتٍ "، فَسَقَطَتْ مُتَتَابِعَاتٍ " قَوْلُهَا سَقَطَتْ تُرِيدُ نُسِخَتْ، لَا يَصِحُّ لَهُ تَأْوِيلٌ غَيْرُ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ مُتَتَابِعَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 184] تو پھر «مُتَتَابِعَاتٍ» کا لفظ ساقط ہو گیا، یعنی منسوخ ہو گیا۔ اس کے علاوہ کوئی تاویل درست نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَامِرٍ الْهَوْزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَمْ يُرَخِّصْ لَكُمْ فِي فِطْرِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَلَيْكُمْ فِي قَضَائِهِ، فَأَحْصِ الْعِدَّةَ، وَاصْنَعْ مَا شِئْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عامر ہوزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رمضان کی قضا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ نے تمہیں اس میں افطار کی رخصت اس لیے نہیں دی کہ وہ اس کی قضا میں تم پر مشقت ڈالنا چاہتا ہو، اس کی گنتی پوری کرو اور جو تو چاہتا ہے وہ کر۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَحْصِ الْعِدَّةَ، وَصُمْ كَيْفَ شِئْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان سے قضائے رمضان کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: انہیں شمار کرو اور جیسے چاہے قضا کرو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ لَا يَرَى بِقَضَائِهِ بَأْسًا أَنْ يَقْضِيَهُ مُفَرَّقًا، يَعْنِي قَضَاءَ صَوْمِ رَمَضَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی قضا میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ اس کی قضا جدا جدا کی جائے، یعنی رمضان کے روزوں کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ: " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْهُ فَلْيُفَرِّقْ بَيْنَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کی قضا کے بارے میں فرمایا: جس پر اس کی کچھ قضا ہو تو وہ اسے جدا جدا رکھ لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي مَنْ عَلَيْهِ قَضَاءُ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: " يَقْضِيهِ مُتَفَرِّقًا، فَإِنَّ اللهَ قَالَ: {فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: ١٨٤] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس پر رمضان کے مہینے کی قضا ہو کہ وہ اس کی قضا جدا جدا کرے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 184] کہ اتنی گنتی دوسرے دنوں میں پوری کرو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٣٢⦘ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا، وَيَقُولُ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ {فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: ١٨٤].
حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 184] ”دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرو۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يَقُولُ: " أَحْصِ الْعِدَّةَ، وَصُمْ كَيْفَ شِئْتَ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”گنتی شمار کر اور جیسے چاہے روزے رکھ۔“
اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے مرسل سند کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے۔
اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے مرسل سند کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ أَبُو حُسَيْنٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَضَى يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ مُنْقَطِعَيْنِ، أَيُجْزِئُ عَنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَاهُ دِرْهَمًا وَدِرْهَمَيْنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ، أَتَرَوْنَ ذِمَّتَهُ بَرِئَتْ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " يَقْضِي عَنْهُ " وَقَدْ قِيلَ: عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
صالح بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی پر قضا ہے اور وہ علیحدہ علیحدہ ایک یا دو دن کے روزے رکھتا ہے تو کیا اسے کفایت کر جائے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی کا قرض ہو تو ایک یا دو درہم ادا کرتا رہے تو اس کا قرض ادا ہوجاتا ہے۔ کیا اس طرح وہ اپنے ذمے سے بری نہ ہوگا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے ہی اس سے ادا ہوجائیں گے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ تَقْطِيعِ قَضَاءِ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " ذَلِكَ إِلَيْكَ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَى الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، أَلَمْ يَكُنْ قَضَاءً؟ فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ يَعْفُوَ أَوْ يَغْفِرَ " قَالَ عَلِيٌّ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ، وَقَدْ وَصَلَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ وَلَا يَثْبُتُ مُتَّصِلًا. ⦗٤٣٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَقَدْ رُوِيَ فِي مُقَابَلَتِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ مَرْفُوعًا وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ صَحِيحًا وَمَذْهَبُ أَبِي هُرَيْرَةَ جَوَازُ التَّفْرِيقِ وَمَذْهَبُ ابْنِ عُمَرَ الْمُتَابَعَةُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوعًا فِي جَوَازِ التَّفْرِيقِ وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سے رمضان کے روزہ کی جدا جدا قضا کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری طرف ہے، تم بتاؤ کہ اگر کسی پر قرض ہو تو وہ اس میں سے ایک ایک، دو درہم ادا کرتا ہے، کیا اس کی ادائیگی نہیں ہوگی! تو اللہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ وہ درگزر کرے اور معاف کر دے۔“
علی (دارقطنی) نے کہا: اس کی سند حسن ہے مگر یہ مرسل ہے، ابو بکر کے علاوہ دوسروں نے اسے یحییٰ بن سلیم سے متصل بیان کیا ہے، لیکن یہ متصل ثابت نہیں۔ یہ ایک دوسری ضعیف سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس کے مقابلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جدا جدا رکھنے کی ممانعت میں مرفوع روایت آئی ہے، اور یہ کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مذہب جدا جدا رکھنے کا جواز ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا مذہب لگاتار رکھنا ہے۔ اور ایک اور سند سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے جدا جدا رکھنے کے جواز میں مرفوع روایت آئی ہے، اور ان میں سے کوئی بات صحیح نہیں۔
علی (دارقطنی) نے کہا: اس کی سند حسن ہے مگر یہ مرسل ہے، ابو بکر کے علاوہ دوسروں نے اسے یحییٰ بن سلیم سے متصل بیان کیا ہے، لیکن یہ متصل ثابت نہیں۔ یہ ایک دوسری ضعیف سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس کے مقابلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جدا جدا رکھنے کی ممانعت میں مرفوع روایت آئی ہے، اور یہ کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مذہب جدا جدا رکھنے کا جواز ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا مذہب لگاتار رکھنا ہے۔ اور ایک اور سند سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے جدا جدا رکھنے کے جواز میں مرفوع روایت آئی ہے، اور ان میں سے کوئی بات صحیح نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ صَوْمُ رَمَضَانَ فَلْيَسْرُدْهُ وَلَا يُقَطِّعْهُ " قَالَ عَلِيٌّ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ مَدَنِيٌّ قَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے ذمہ رمضان کی قضا ہو، وہ انہیں اکٹھے رکھے، جدا جدا قضا نہ کرے۔“
عبدالرحمٰن بن ابراہیم ضعیف ہے، یہ مدنی ہے، اسے یحییٰ بن معین، ابو عبدالرحمٰن نسائی اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
عبدالرحمٰن بن ابراہیم ضعیف ہے، یہ مدنی ہے، اسے یحییٰ بن معین، ابو عبدالرحمٰن نسائی اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ، قَالَ: " مُتَتَابِعًا ".
حافظ ثناء اللہ
حارث، علی رضی اللہ عنہ سے رمضان کی قضا کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ لگاتار رکھے۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " مُتَتَابِعًا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے (رمضان کی قضا کے بارے میں) فرمایا: لگاتار رکھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٤٣٤⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُفَرِّقُ قَضَاءَ رَمَضَانَ هَكَذَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَرَاوِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ، وَالْحَارِثُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ رمضان کی قضا کو جدا جدا نہیں کرتے تھے اور ایسے ہی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا، مگر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس میں اختلاف پایا گیا۔
اس کا راوی حارث اعور ہے اور حارث ضعیف ہے۔
اس کا راوی حارث اعور ہے اور حارث ضعیف ہے۔