کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عید الفطر، عید الاضحیٰ اور ایامِ منیٰ میں نہ فرض روزہ رکھا جائے گا اور نہ نفلی۔
حدیث نمبر: 8248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا، يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ابنِ ازہر کے غلام ابو عبید بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کے موقع پر حاضر ہوا، وہ تشریف لائے اور نماز پڑھائی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”ان دونوں دنوں میں رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ یہ دن تمہارا روزوں کی افطاری کا دن ہے اور دوسرا دن وہ ہے جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔“
حدیث نمبر: 8249
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز سے ابتدا کی۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ان دو دن کے روزوں سے منع کیا، جو یوم الاضحی ہے، اس میں تم قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو اور جو یوم الفطر ہے، یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن ہے۔“
حدیث نمبر: 8250
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ أَبِي حَرَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ سَمَّاهُ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ فِيهِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ يَوْمَ فِطْرٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ، لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَلَا يَوْمَ الْفِطْرِ، وَلَا يَأْمُرُ بِصِيَامِهِمَا ⦗٤٣٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حکیم بن ابی حرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے سنا جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نذر کے روزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ایک آدمی دن کا نام لے کر نذر مانتا ہے کہ فلاں دن نہیں آئے گا مگر میں روزے سے ہوں گا، تو وہ دن عید الاضحی کا ہوتا ہے یا عید الفطر کا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ﴿تمہارے لیے نبی کریم ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے﴾ [سورة الأحزاب: 21] کہ رسول اللہ ﷺ یوم الاضحی اور یوم الفطر کو روزہ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ان میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 8251
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَنَادَى أَنَّهُ: " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَأَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ" لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ.
حافظ ثناء اللہ
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اور اوس بن حدثان رضی اللہ عنہما کو ایام تشریق میں اعلان کے لیے بھیجا کہ ”سوائے مومن کے کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا اور ایام منیٰ کھانے پینے کے ایام ہیں۔“
حدیث نمبر: 8252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَذَلِكَ لِلْغَدِ أَوْ بَعْدِ الْغَدِ مَنْ يوْمِ الْأَضْحَى فَقَدَّمَ إِلَيْهِ عَمْرٌو طَعَامًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: " أَفْطِرْ، فَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا، وَيَنْهَى عَنْ صِيَامِهَا "، فَأَفْطَرَ عَبْدُ اللهِ وَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا غلام بیان کرتا ہے کہ میں اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، یہ بات عید الاضحی کے بعد پہلے یا دوسرے دن کی ہے، تو عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کے سامنے کھانا پیش کیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو ان سے عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ”افطار کرو، یہ ان ایام میں سے ہے جس میں رسول اللہ ﷺ ہمیں افطار کا حکم دیا کرتے تھے اور روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے تھے“، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہما نے افطار کر لیا اور کھانا کھایا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔