السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: قضاء شهر رمضان إن شاء متفرقا، وإن شاء متتابعا باب: ماہِ رمضان کی قضا، چاہے تو الگ الگ کر کے رکھے اور چاہے تو لگاتار رکھے۔
حدیث نمبر: 8242
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ أَبُو حُسَيْنٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَضَى يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ مُنْقَطِعَيْنِ، أَيُجْزِئُ عَنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَاهُ دِرْهَمًا وَدِرْهَمَيْنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ، أَتَرَوْنَ ذِمَّتَهُ بَرِئَتْ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " يَقْضِي عَنْهُ " وَقَدْ قِيلَ: عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.حافظ ثناء اللہ
صالح بن کیسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی پر قضا ہے اور وہ علیحدہ علیحدہ ایک یا دو دن کے روزے رکھتا ہے تو کیا اسے کفایت کر جائے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی کا قرض ہو تو ایک یا دو درہم ادا کرتا رہے تو اس کا قرض ادا ہوجاتا ہے۔ کیا اس طرح وہ اپنے ذمے سے بری نہ ہوگا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے ہی اس سے ادا ہوجائیں گے۔“