السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: قضاء شهر رمضان إن شاء متفرقا، وإن شاء متتابعا باب: ماہِ رمضان کی قضا، چاہے تو الگ الگ کر کے رکھے اور چاہے تو لگاتار رکھے۔
حدیث نمبر: 8235
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَامِرٍ الْهَوْزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَمْ يُرَخِّصْ لَكُمْ فِي فِطْرِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَلَيْكُمْ فِي قَضَائِهِ، فَأَحْصِ الْعِدَّةَ، وَاصْنَعْ مَا شِئْتَ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عامر ہوزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رمضان کی قضا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ نے اس میں افطار کی رخصت نہیں دی۔ وہ تم پر قضا میں مشقت کرنا چاہتا ہے، اس کی گنتی پوری کرو اور جو تو چاہتا ہے وہ کر۔