السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: قضاء شهر رمضان إن شاء متفرقا، وإن شاء متتابعا باب: ماہِ رمضان کی قضا، چاہے تو الگ الگ کر کے رکھے اور چاہے تو لگاتار رکھے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ تَقْطِيعِ قَضَاءِ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " ذَلِكَ إِلَيْكَ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَى الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، أَلَمْ يَكُنْ قَضَاءً؟ فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ يَعْفُوَ أَوْ يَغْفِرَ " قَالَ عَلِيٌّ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ، وَقَدْ وَصَلَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ وَلَا يَثْبُتُ مُتَّصِلًا. ⦗٤٣٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا، وَقَدْ رُوِيَ فِي مُقَابَلَتِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْقَطْعِ مَرْفُوعًا وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ صَحِيحًا وَمَذْهَبُ أَبِي هُرَيْرَةَ جَوَازُ التَّفْرِيقِ وَمَذْهَبُ ابْنِ عُمَرَ الْمُتَابَعَةُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَرْفُوعًا فِي جَوَازِ التَّفْرِيقِ وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ.محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ سے رمضان کے روزہ کی جدا جدا قضا کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری طرف ہے، تم بتاؤ کہ اگر کسی پر قرض ہو تو وہ اس میں سے ایک ایک، دو درہم ادا کرتا ہے، کیا اس کی ادائیگی نہیں ہوگی! تو اللہ زیادہ حق رکھتا ہے کہ وہ درگزر کرے اور معاف کر دے۔“
علی (دارقطنی) نے کہا: اس کی سند حسن ہے مگر یہ مرسل ہے، ابو بکر کے علاوہ دوسروں نے اسے یحییٰ بن سلیم سے متصل بیان کیا ہے، لیکن یہ متصل ثابت نہیں۔ یہ ایک دوسری ضعیف سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس کے مقابلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جدا جدا رکھنے کی ممانعت میں مرفوع روایت آئی ہے، اور یہ کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مذہب جدا جدا رکھنے کا جواز ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا مذہب لگاتار رکھنا ہے۔ اور ایک اور سند سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے جدا جدا رکھنے کے جواز میں مرفوع روایت آئی ہے، اور ان میں سے کوئی بات صحیح نہیں۔