کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے عید الفطر کا چاند دیکھنے پر دو عادل گواہوں کے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کی۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ⦗٤١٦⦘ الْأَشْجَعِيِّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ جَدِيلَةُ قَيْسٍ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ: " عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا "، فَسَأَلْتُ حُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ: مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ثُمَّ قَالَ الْأَمِيرُ: " إِنَّ فِيكُمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ مِنِّي، وَشَهِدَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَجُلٍ، قَالَ الْحُسَيْنُ: فَقُلْتُ لِشَيْخٍ إِلَى جَنْبِي: مَنْ هَذَا الَّذِي أَوْمَئَ إِلَيْهِ الْأَمِيرُ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدَ اللهِ بْنُ عَمْرَ، وَصَدَقَ، كَانَ أَعْلَمَ بِاللهِ مِنْهُ، فَقَالَ: بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
حسین بن حارث جدلی فرماتے ہیں کہ امیرِ مکہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عہد لیا کہ ہم اسے دیکھ کر قربانی کریں۔ اگر ہم اسے نہ دیکھیں اور دو عادل آدمی گواہی دے دیں تو ان دو کی گواہی پر ہم قربانی کریں گے“ تو میں نے حسین بن حارث سے پوچھا: امیرِ مکہ کون ہے؟ تو وہ کہنے لگے: میں نہیں جانتا۔ پھر وہ اس کے بعد مجھے ملے تو انہوں نے کہا: وہ حارث بن حاطب ہیں جو محمد بن حاطب کے بھائی ہیں۔ پھر امیر نے کہا: ”تم میں وہ شخص موجود ہے جو مجھ سے زیادہ اللہ اور رسول ﷺ کی بات کو جانتا ہے اور اس نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے“ اور اپنے ہاتھ سے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کہتے ہیں: میں نے اس شیخ سے کہا جو میرے پہلو میں تھا: یہ کون ہے جس کی طرف امیر نے اشارہ کیا؟ اس نے کہا: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور اس نے سچ کہا، واقعتاً وہ اس سے زیادہ علم والے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8185
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثُمَّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ، كَانَ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْحَبَشَةِ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم حربی رحمہ اللہ نے کہا: وہ (امیرِ مکہ) حارث بن حاطب بن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جُمَح ہیں، وہ مہاجرینِ حبشہ میں سے تھے۔ علی بن عمر رحمہ اللہ نے کہا: یہ سند متصل صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8186
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه دارقطني»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ صِيَامًا لِثَلَاثِينَ.
حافظ ثناء اللہ
ربعی بن حراش رحمہ اللہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگوں نے تیسویں دن روزے کی حالت میں صبح کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8187
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الحكم»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلَّاهُ بِالْأَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
ربعی بن حراش کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگوں نے تیسویں دن روزے کی حالت میں صبح کی تو دو دیہاتی آئے، انہوں نے گواہی دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ ”وہ روزہ افطار کریں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8188
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن الجارود»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ لَأَهَلَّا الْهِلَالُ بِالْأَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا.
حافظ ثناء اللہ
ربعی بن حراش کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رمضان کے آخری دن میں اختلاف کیا تو دو آدمی آئے اور انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے کل شام چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ ”وہ افطار کر لیں“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8189
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظرقبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ صِيَامًا لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ، فَجَاءَ رَجُلَانِ فَشَهِدَا أَنَّهُمَا رَأَيَا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَأَفْطَرُوا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیس کی صبح لوگوں نے روزے کی حالت میں کی، پھر دو آدمی آئے اور انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8190
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، قَالَ: فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ " قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ هِلَالَ آخِرِ رَمَضَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم پر رمضان کا چاند طلوع ہوا اور ہم خانقین میں تھے، تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر ہمارے پاس آئی کہ جب تم دن میں چاند دیکھو پھر افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو مسلمان آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد رمضان کے آخر کا چاند ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8191
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخراجه ابن البعد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُهُسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ: " إِنَّ الْأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ أَوْلَ النَّهَارِ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ " هَذَا أَثَرٌ صَحِيحٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف خط لکھا اور ہم خانقین میں تھے کہ بے شک چاند ایک دوسرے سے بڑا ہوتا ہے، سو جب تم چاند دن کے شروع میں دیکھو تو افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو عادل لوگ گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے۔
یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح اثر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8192
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظرقبله»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِالْبَقِيعِ، فَنَظَرَ إِلَى الْهِلَالِ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ " قَالَ: مِنَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: " أَهْلَلْتَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: " اللهُ أَكْبَرُ، إِنَّمَا يَكْفِي الْمُسْلِمِينَ الرَّجُلُ "، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا براء بن عازب اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ بقیع میں ساتھ تھا، انہوں نے چاند کی طرف دیکھا، اتنے میں ایک سوار آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے ملے اور اس سے پوچھا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے بتایا: مغرب سے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: کیا تو نے چاند دیکھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، بے شک مسلمانوں کو یہی آدمی کافی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر مغرب کی نماز پڑھائی، پھر کہا: میں نے آپ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8193
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه احمد»
َأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا يَزِيدُ، أنبأ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ⦗٤١٨⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: رَأَيْتُ الْهِلَالَ هِلَالَ شَوَّالٍ، فَقَالَ عُمَرُ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْطِرُوا، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: میں نے شوال کا چاند دیکھا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو! افطار کرو۔ پھر موزوں پر مسح کرنے تک حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8194
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي رُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ: قُلْتُ لِأَبِي نُعَيْمٍ: سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ؟ فَلَمْ يُثْبِتْ ذَلِكَ. قَالَ عَلِيٌّ: عَبْدُ الْأَعْلَى هُوَ ابْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ، غَيْرُهُ أَثْبَتُ مِنْهُ، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ أَصَحُّ إِسْنَادًا عَنْ عُمَرَ مِنْهُ، رَوَاهُ الْأَعْمَشُ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ: سُئِلَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عُمَرَ، فَقَالَ: لَمْ يَرَهُ، فَقُلْتُ لَهُ الْحَدِيثَ الَّذِي يَرْوِي: كُنَّا مَعَ عُمَرَ نَتَرَاءَى الْهِلَالَ، فَقَالَ لَيْسَ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کی گواہی کو عید الفطر یا اضحیٰ کا چاند دیکھنے کے لیے جائز قرار دیا۔
محمد بن علی وراق کہتے ہیں: میں نے ابونعیم سے پوچھا: کیا ابن ابی لیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا: کیا ابن ابی لیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے اسے ثابت نہیں کیا۔ علی (دارقطنی) کہتے ہیں: عبدالاعلیٰ، ابن عامر ثعلبی ہیں، دوسرے راوی ان سے زیادہ پختہ ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ابووائل کی حدیث اس سے زیادہ صحیح سند والی ہے، اسے اعمش اور منصور نے ابووائل سے روایت کیا ہے۔
یحییٰ بن معین سے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا۔ میں نے ان سے کہا: وہ حدیث جو وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاند دیکھ رہے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کچھ بھی نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8195
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»