السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم يقبل على رؤية هلال الفطر إلا شاهدين عدلين باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے عید الفطر کا چاند دیکھنے پر دو عادل گواہوں کے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ⦗٤١٦⦘ الْأَشْجَعِيِّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ جَدِيلَةُ قَيْسٍ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَ ثُمَّ قَالَ: " عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا "، فَسَأَلْتُ حُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ: مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ثُمَّ قَالَ الْأَمِيرُ: " إِنَّ فِيكُمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ مِنِّي، وَشَهِدَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَجُلٍ، قَالَ الْحُسَيْنُ: فَقُلْتُ لِشَيْخٍ إِلَى جَنْبِي: مَنْ هَذَا الَّذِي أَوْمَئَ إِلَيْهِ الْأَمِيرُ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدَ اللهِ بْنُ عَمْرَ، وَصَدَقَ، كَانَ أَعْلَمَ بِاللهِ مِنْهُ، فَقَالَ: بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حسین بن حارث جدلی فرماتے ہیں کہ امیرِ مکہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عہد لیا کہ ہم اسے دیکھ کر قربانی کریں۔ اگر ہم اسے نہ دیکھیں اور دو عادل آدمی گواہی دے دیں تو ان دو کی گواہی پر ہم قربانی کریں گے“ تو میں نے امیرِ مکہ حسین بن حارث سے پوچھا تو وہ کہنے لگے: میں نہیں جانتا۔ پھر وہ اس کے بعد مجھے ملے تو انہوں نے کہا: حارث بن حاطب محمد بن حاطب کا بھائی ہے۔ پھر امیر نے کہا: ”تم میں وہ شخص موجود ہے جو مجھ سے زیادہ اللہ اور رسول ﷺ کی بات کو جانتا ہے“ اور اپنے ہاتھ سے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کہتے ہیں: میں نے اس شیخ سے کہا جو میرے پہلو میں تھا: یہ کون ہے جس کی طرف امیر نے اشارہ کیا؟ اس نے کہا: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور اس نے سچ کہا، واقعتاً وہ اس سے زیادہ علم والے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہی حکم دیا ہے“۔