کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: زوال کے بعد عید الفطر کا چاند دیکھنے کی گواہی ثابت ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَصْبَحَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ صِيَامًا فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوَا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا وَيَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِمَعْنَاهُ شُعْبَةُ وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَأَبُو عُمَيْرٍ رَوَاهُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ، فَسَوَاءٌ سُمُّوا أَوْ لَمْ يُسَمَّوْا.
حافظ ثناء اللہ
ابوعمیر بن انس اپنے چچاؤں سے، جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، نقل فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں رمضان کے آخری دن صبح روزے کی حالت میں کی۔ دن کے اخیر میں ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو افطار کا حکم دیا اور وہ صبح عیدگاہ پہنچیں۔
یہ سند حسن ہے، ابوعمیر نے اسے اپنے چچاؤں سے روایت کیا ہے جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ ثقہ ہیں، خواہ ان کے نام لیے جائیں یا نہ لیے جائیں۔
یہ سند حسن ہے، ابوعمیر نے اسے اپنے چچاؤں سے روایت کیا ہے جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ ثقہ ہیں، خواہ ان کے نام لیے جائیں یا نہ لیے جائیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمُومَةً لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ، شَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ وَغَلِطَ فِيهِ، إِنَّمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
انس رضی اللہ عنہ اپنے انصار چچاؤں رضی اللہ عنہم سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”کل عید کے لیے نکلیں۔“
اسے شعبہ سے روایت کرنے میں سعید بن عامر منفرد ہیں اور انہوں نے اس میں غلطی کی ہے، شعبہ نے تو اسے صرف ابوبشر سے روایت کیا ہے۔
اسے شعبہ سے روایت کرنے میں سعید بن عامر منفرد ہیں اور انہوں نے اس میں غلطی کی ہے، شعبہ نے تو اسے صرف ابوبشر سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَتِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاءَ رَكْبٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْهُ بِالْأَمْسِ، يَعْنِي الْهِلَالَ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْغَدِ قَالَ شُعْبَةُ: أَرَاهُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ.
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن انس اپنے چچاؤں سے نقل فرماتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی رضی اللہ عنہم تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک قافلہ آیا اور انہوں نے چاند دیکھنے کی گواہی دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں ”افطار کا حکم دیا اور یہ کہ کل عیدگاہ کی طرف نکلیں“۔ شعبہ کہتے ہیں: یہ دن کا آخر تھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ لَأَهَلَّا الْهِلَالَ أَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ربعی بن حراش ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن میں لوگوں نے اختلاف کیا تو دو دیہاتی آئے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو ”افطار کا حکم دے دیا اور یہ کہ کل عیدگاہ آئیں۔“