السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم يقبل على رؤية هلال الفطر إلا شاهدين عدلين باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے عید الفطر کا چاند دیکھنے پر دو عادل گواہوں کے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 8191
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ، قَالَ: فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ " قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ هِلَالَ آخِرِ رَمَضَانَ.حافظ ثناء اللہ
ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم پر رمضان کا چاند طلوع ہوا اور ہم خانقین میں تھے، تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر ہمارے پاس آئی کہ جب تم دن میں چاند دیکھو پھر افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد رمضان کے آخر کا چاند ہے۔