السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم يقبل على رؤية هلال الفطر إلا شاهدين عدلين باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے عید الفطر کا چاند دیکھنے پر دو عادل گواہوں کے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کی۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِالْبَقِيعِ، فَنَظَرَ إِلَى الْهِلَالِ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ " قَالَ: مِنَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: " أَهْلَلْتَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: " اللهُ أَكْبَرُ، إِنَّمَا يَكْفِي الْمُسْلِمِينَ الرَّجُلُ "، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ ".عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا براء بن عازب اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ بقیع میں ساتھ تھا، انہوں نے چاند کی طرف دیکھا، اتنے میں ایک سوار آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے ملے اور اس سے پوچھا: تو کہاں سے آیا ہے؟ اس نے بتایا: مغرب سے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: کیا تو نے چاند دیکھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، بے شک مسلمانوں کو یہی آدمی کافی ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر مغرب کی نماز پڑھائی، پھر کہا: میں نے آپ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔