السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: من لم يقبل على رؤية هلال الفطر إلا شاهدين عدلين باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے عید الفطر کا چاند دیکھنے پر دو عادل گواہوں کے سوا کسی کی گواہی قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 8192
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُهُسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ: " إِنَّ الْأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ أَوْلَ النَّهَارِ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ " هَذَا أَثَرٌ صَحِيحٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف خط لکھا اور ہم خانقین میں تھے کہ بے شک چاند ایک دوسرے سے بڑا ہوتا ہے، سو جب تم چاند دن کے شروع میں دیکھو تو افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو عادل لوگ گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے۔