حدیث نمبر: 8192
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُهُسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ: " إِنَّ الْأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ أَوْلَ النَّهَارِ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ " هَذَا أَثَرٌ صَحِيحٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف خط لکھا اور ہم خانقین میں تھے کہ بے شک چاند ایک دوسرے سے بڑا ہوتا ہے، سو جب تم چاند دن کے شروع میں دیکھو تو افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو عادل لوگ گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8192
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظرقبله»