کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”صدقۃ الفطر میں گندم سے نصف صاع نکالا جائے گا“۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ ⦗٢٨٢⦘ عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللهُ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى "..
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن ابی صعیر اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گندم کا ایک صاع دو کی طرف سے ہے، وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مذکر ہوں یا مؤنث۔ جو تم میں سے غنی ہو اسے اللہ پاک کر دیں گے اور جو فقیر ہو اس پر اس سے زیادہ لوٹائیں گے جو اس نے دیا۔“ [ضعیف۔ معنیٰ تخریجہ ]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7709
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ، أَوْ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَزَادَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: غَنِيٌّ أَوْ فَقِيرٌ. وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ الْكُوفِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، وَقِيلَ عَنْهُ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَوْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقِيلَ عَنْهُ فِي ذَلِكَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ، وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ وَقِيلَ فِي الْقَمْحِ خَاصَّةً عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ فَاللهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: " فِي الْقَمْحِ بَيْنَ اثْنَيْنِ " وَخَالَفَهُمْ مَعْمَرٌ فَرَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْفَعُهُ. قَالَ أَحْمَدُ: فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ: إِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ أَوْ كُلِّ إِنْسَانٍ، هَكَذَا رِوَايَةُ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ لَمْ يُقِمْ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُهُ قَدْ أَصَابَ الْإِسْنَادَ وَالْمَتْنَ، وَرَوَاهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ.
حافظ ثناء اللہ
مسدد اور سلیمان بن داؤد عتکی نے یہ حدیث ذکر کی۔ سلیمان بن داؤد کی روایت میں ہے: عبداللہ بن ثعلبہ یا ثعلبہ بن عبداللہ بن ابی صعیر اپنے والد سے، اور سلیمان نے اپنی حدیث میں ”غنی ہو یا فقیر“ کا اضافہ کیا۔
یہ روایت بکر بن وائل کوفی سے بھی مروی ہے، وہ زہری سے، وہ عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے یہ بھی کہا گیا ہے: ثعلبہ بن عبداللہ یا عبداللہ بن ثعلبہ نبی کریم ﷺ سے مرسلاً۔ اور ان سے اس میں یہ بھی کہا گیا ہے: ”ہر فرد کی طرف سے“، اور نعمان بن راشد کی حدیث میں بھی ایسا ہی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خاص طور پر گندم میں ”ہر دو کی طرف سے“، واللہ اعلم۔
ابن جریج نے اسے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: زہری نے کہا: عبداللہ بن ثعلبہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا، پھر حدیث ذکر کی اور فرمایا: ”گندم میں (ایک صاع) دو کے درمیان ہے۔“ معمر نے ان کی مخالفت کی اور اسے زہری سے، انہوں نے عبد الرحمن بن ہرمز سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا، پھر کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ زہری اسے مرفوع بیان کرتے تھے۔
احمد (بیہقی) فرماتے ہیں: محمد بن یحییٰ ذہلی نے ”کتاب العلل“ میں کہا: درست نام عبداللہ بن ثعلبہ ہی ہے، اور درست الفاظ ”ہر فرد کی طرف سے“ یا ”ہر انسان کی طرف سے“ ہی ہیں۔ بکر بن وائل کی روایت اسی طرح ہے، ان کے سوا کسی نے اس حدیث کو درست طور پر بیان نہیں کیا، انہوں نے سند اور متن دونوں درست بیان کیے ہیں، اور انہوں نے اسے ابو سلمہ سے، انہوں نے ہمام سے اور انہوں نے بکر بن وائل سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7710
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ بِنِصْفِ صَاعٍ مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ". وَهَذَا لَا يَصِحُّ، وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ صَحِيحًا؟ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عِمْرَانَ تَعْدِيلُ الصَّاعِ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم کو صدقہ فطر کے بارے میں حکم دیا کہ ”نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور سے دیا جائے۔“
یہ درست نہیں ہے۔ یہ کیسے درست ہو سکتا ہے جبکہ نافع سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے ایک جماعت کی روایت یہ ہے کہ ایک صاع کو گندم کے دو مد کے برابر قرار دینا رسول اللہ ﷺ کے بعد ہوا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7711
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه الدار قطني»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ ⦗٢٨٣⦘ الْحَسَنِ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ فِي آخِرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَدُّوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ "، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا، فَقَالَ: " مَنْ هَاهُنَا مِنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ، فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ عَلَى كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ ذَكَرٍ وَأُنْثَى حُرٍّ وَعَبْدٍ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعُ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعِ قَمْحٍ " فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرَأَى رُخْصَ الشَّعِيرِ، قَالَ: لَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَاهَا عَلَى مَنْ صَامَ. كَذَا قَالَ خَطَبَنَا وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ سَهْلِ بْنِ يُوسُفَ، فَقَالَ خَطَبَ وَهُوَ أَصَحُّ..
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے آخر میں ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا اور فرمایا: ”اپنے روزوں کی زکوۃ ادا کرو۔“ گویا کہ لوگ اس بات کو جانتے نہیں تھے، پھر انہوں نے فرمایا: ”یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے؟ وہ اپنے بھائیوں کو سکھلا دے، کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ زکوۃ رسول اللہ ﷺ نے فرض کی ہے: ”ہر چھوٹے بڑے پر، مذکر و مؤنث، آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک صاع یا گندم کا نصف صاع۔““ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے جو کو کم قیمت پایا تو انہوں نے کہا: ”اگر تم ہر چیز کا صاع مقرر کر لو تو بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اور حسن رحمہ اللہ اسے اس شخص پر واجب سمجھتے تھے جس نے روزہ رکھا۔
انہوں نے اسی طرح ”ہمیں خطبہ دیا“ کہا ہے، جبکہ محمد بن مثنیٰ نے اسے سہل بن یوسف سے روایت کیا تو ”خطبہ دیا“ کہا، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7712
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ، وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ، فَقَالَ: حَدِيثٌ بَصْرِيٌ وَإِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ، قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ: الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَا رَآهُ قَطُّ، كَانَ بِالْمَدِينَةِ أَيَّامَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى الْبَصْرَةِ، قَالَ: وَقَالَ لِي عَلِيٌّ فِي حَدِيثِ الْحَسَنِ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ إِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ ثَابِتٍ قَدِمَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَمَثَلُ قَوْلِ مُجَاهِدٍ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ، وَكَقَوْلِ الْحَسَنِ: إِنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ حَدَّثَهُمُ، الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ: حَدِيثُ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ سَمَاعًا مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْخُطْبَةِ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن احمد بن براء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی رحمہ اللہ سے سنا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے صدقہ فطر کے بارے میں نقل کی، تو انہوں نے فرمایا: یہ بصری حدیث ہے اور اس کی سند مرسل ہے۔
علی (بن مدینی) نے یہ بھی فرمایا: حسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا اور نہ ہی کبھی انہیں دیکھا، جن دنوں ابن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ کے امیر تھے وہ مدینہ میں تھے۔ اور علی نے مجھ سے حسن کے قول ”ابن عباس نے ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا“ کے بارے میں فرمایا: یہ ثابت کے اس قول کی طرح ہے کہ ”ہمارے پاس عمران بن حصین آئے“، اور مجاہد کے اس قول کی طرح کہ ”ہمارے پاس علی نکل کر آئے“، اور حسن کے اس قول کی طرح کہ ”سراقہ بن مالک بن جعشم نے انہیں حدیث بیان کی“، حسن نے ابن عباس سے نہیں سنا۔
شیخ ابو احمد فرماتے ہیں: حسن کی ابن عباس سے حدیث مرسل ہے، اور ہم نے ابو رجاء عطاردی سے روایت کیا ہے جنہوں نے اسی خطبے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خود سنا کہ صدقہ فطر میں کھانے کا ایک صاع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7713
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أُمِرْنَا أَنْ نُعْطِيَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، وَمَنْ أَدَّى بُرًّا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى شَعِيرًا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى زَبِيبًا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى سلْتًا قُبِلَ مِنْهُ ". قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَمَنْ أَدَّى دَقِيقًا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى سَوِيقًا قُبِلَ مِنْهُ. وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ، مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ يُوَافِقُ حَدِيثَ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ الْمَوْصُولَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَهُوَ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا وَمَا شَكَّ فِيهِ الرَّاوِي وَلَا شَاهِدَ لَهُ، فَلَا اعْتِدَادَ بِهِ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم زکاۃِ رمضان ہر چھوٹے، بڑے اور آزاد اور غلام کی طرف سے کھانے کا ایک صاع ادا کریں، اور جو کوئی گندم لائے اس سے قبول کر لی جائے، اور جو کوئی جو سے ادا کرے اسے بھی قبول کر لیا جائے، اور جس نے منقیٰ سے ادا کی اس سے بھی قبول کر لی جائے، اور جس نے سُلت (بغیر چھلکے والا جو) دیا اسے بھی قبول کر لیا جائے۔“ میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جس نے آٹا یا ستو دیا اسے بھی قبول کر لیا جائے۔“
یہ روایت بھی مرسل ہے، محمد بن سیرین نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ نہیں سنا، البتہ یہ ابو رجاء عطاردی کی ابن عباس سے متصل حدیث کے موافق ہے، اس لیے اس کا صحیح ہونا زیادہ مناسب ہے، اور جس بات میں راوی کو شک ہوا اور اس کا کوئی شاہد نہیں، اس کا اعتبار نہیں۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7714
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه دار قطني»
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ، أنبأ شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: حَدِيثُ مُدَّيْنِ خَطَأٌ قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ فَالْأَخْبَارُ الثَّابِتَةُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ التَّعْدِيلَ بِمُدَّيْنِ كَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٢٨٥⦘ وَرُوِّينَا فِي جَوَازِ نِصْفِ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَفِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ: لَا يَثْبُتُ ذَلِكَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُنْقَطِعٌ وَعَنْ عُثْمَانَ مَوْصُولٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَوَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِي نِصْفِ صَاعٍ، وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ. قَدْ بَيَّنْتُ عِلَّةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ، وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَفِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ تَعْدِيلَ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ وَهُوَ نِصْفُ صَاعٍ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَقَعَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ فطر گندم کے دو مد ہیں۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دو مد والی حدیث ”خطأ“ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: بات ویسی ہی ہے جیسے انہوں نے کہی، اخبارِ ثابتہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ دو مد کا اندازہ لگانا رسول اللہ ﷺ کے بعد ہوا۔ ہمیں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور دو روایتوں میں سے ایک کے مطابق علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے صدقہ فطر میں گندم کا نصف صاع ادا کرنا روایت کیا گیا ہے۔ ابن منذر فرماتے ہیں: یہ ابوبکر اور عثمان رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں۔ شیخ فرماتے ہیں: ابوبکر سے یہ روایت منقطع ہے اور عثمان سے موصول ہے، واللہ اعلم۔ نبی کریم ﷺ سے گندم کے ایک صاع کے بارے میں بھی روایات آئی ہیں اور نصف صاع کے بارے میں بھی، لیکن ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں، میں نے ”الخلافیات“ میں ان میں سے ہر ایک کی علت بیان کر دی ہے۔ اور ہم نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت حدیث میں روایت کیا ہے کہ گندم کے دو مد، جو نصف صاع ہے، کو جو کے ایک صاع کے برابر قرار دینا نبی کریم ﷺ کے بعد ہوا، وباللہ التوفیق۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7715