السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال: يخرج من الحنطة في صدقة الفطر نصف صاع. باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”صدقۃ الفطر میں گندم سے نصف صاع نکالا جائے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ ⦗٢٨٣⦘ الْحَسَنِ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ فِي آخِرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَدُّوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ "، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا، فَقَالَ: " مَنْ هَاهُنَا مِنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ، فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ عَلَى كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ ذَكَرٍ وَأُنْثَى حُرٍّ وَعَبْدٍ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعُ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعِ قَمْحٍ " فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرَأَى رُخْصَ الشَّعِيرِ، قَالَ: لَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَاهَا عَلَى مَنْ صَامَ. كَذَا قَالَ خَطَبَنَا وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ سَهْلِ بْنِ يُوسُفَ، فَقَالَ خَطَبَ وَهُوَ أَصَحُّ..حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے آخر میں ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا اور فرمایا: ”اپنے روزوں کی زکوۃ ادا کرو۔“ گویا کہ لوگ اس بات کو جانتے نہیں تھے، پھر انہوں نے فرمایا: ”یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے؟ وہ اپنے بھائیوں کو سکھلا دے، کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ زکوۃ رسول اللہ ﷺ نے فرض کی ہے: ”ہر چھوٹے بڑے پر، مذکر و مؤنث، آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک صاع یا گندم کا نصف صاع۔““ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے جو کو کم قیمت پایا تو انہوں نے کہا: ”اگر تم ہر چیز کا صاع مقرر کر لو تو بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اور حسن رحمہ اللہ اسے اس شخص پر واجب سمجھتے تھے جس نے روزہ رکھا۔
انہوں نے اسی طرح ”ہمیں خطبہ دیا“ کہا ہے، جبکہ محمد بن مثنیٰ نے اسے سہل بن یوسف سے روایت کیا تو ”خطبہ دیا“ کہا، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔