السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال: يخرج من الحنطة في صدقة الفطر نصف صاع. باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”صدقۃ الفطر میں گندم سے نصف صاع نکالا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 7709
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ ⦗٢٨٢⦘ عَنْ كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللهُ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى "..حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ بن ابی صعیر اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گندم کا ایک صاع دو کی طرف سے ہے، وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مذکر ہوں یا مؤنث۔ جو تم میں سے غنی ہو اسے اللہ پاک کر دیں گے اور جو فقیر ہو اس پر اس سے زیادہ لوٹائیں گے جو اس نے دیا۔“ [ضعیف۔ معنیٰ تخریجہ ]