❮
❯
حدیث نمبر: 7714
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أُمِرْنَا أَنْ نُعْطِيَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، وَمَنْ أَدَّى بُرًّا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى شَعِيرًا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى زَبِيبًا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى سلْتًا قُبِلَ مِنْهُ ". قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَمَنْ أَدَّى دَقِيقًا قُبِلَ مِنْهُ وَمَنْ أَدَّى سَوِيقًا قُبِلَ مِنْهُ. وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ، مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ يُوَافِقُ حَدِيثَ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ الْمَوْصُولَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَهُوَ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا وَمَا شَكَّ فِيهِ الرَّاوِي وَلَا شَاهِدَ لَهُ، فَلَا اعْتِدَادَ بِهِ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم زکاۃِ رمضان ہر چھوٹے، بڑے اور آزاد اور غلام کی طرف سے کھانے کا ایک صاع ادا کریں، اور جو کوئی گندم لائے اس سے قبول کر لی جائے، اور جو کوئی جو سے ادا کرے اسے بھی قبول کر لیا جائے، اور جس نے منقیٰ سے ادا کی اس سے بھی قبول کر لی جائے، اور جس نے سُلت (بغیر چھلکے والا جو) دیا اسے بھی قبول کر لیا جائے۔“ میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جس نے آٹا یا ستو دیا اسے بھی قبول کر لیا جائے۔“
یہ روایت بھی مرسل ہے، محمد بن سیرین نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ نہیں سنا، البتہ یہ ابو رجاء عطاردی کی ابن عباس سے متصل حدیث کے موافق ہے، اس لیے اس کا صحیح ہونا زیادہ مناسب ہے، اور جس بات میں راوی کو شک ہوا اور اس کا کوئی شاہد نہیں، اس کا اعتبار نہیں۔ واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7714
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه دار قطني»