کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ زکوٰۃ الفطر نبی ﷺ کے صاع کے مطابق ایک صاع ہی واجب ہے، اور اس میں اہل مدینہ کے اس صاع کا اعتبار ہوگا جسے وہ بطور خوراک استعمال کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِبَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ زَكَاةَ الْفِطْرِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدِّ الَّذِي يَقْتَاتُ بِهِ أَهْلُ الْبَيْتِ أَوِ الصَّاعِ الَّذِي يَقْتَاتُونَ بِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ كُلُّهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں وہ اس مد سے زکوۃ دیا کرتے تھے جس سے اہل بیت وزن کیا کرتے تھے یا اس صاع سے جس سے تمام اہل مدینہ وزن کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمِيزَانُ عَلَى مِيزَانِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَالْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ترازو اہل مکہ کا ترازو ہے اور ماپ اہل مدینہ کا اصل ماپ ہے۔“