أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ} [البقرة: ٢٦٧]. قَالَ: " التِّجَارَةُ "، {وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ} [البقرة: ٢٦٧] قَالَ: " النَّخْلُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ، مجاہد رحمہ اللہ سے اس قول کے بارے میں نقل فرماتے ہیں: ﴿أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 267] ”جو تم کماتے ہو اس میں سے خرچ کرو“ یہ تجارت ہے، اور ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ﴾ [سورة البقرة: 267] ”اور اس میں سے جو ہم زمین میں سے نکالتے ہیں“ سے مراد کھجور ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نَعُدُّ لِلْبَيْعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ”ہم اس میں سے زکوۃ دیں جس مال کو تجارت کے لیے تیار کرتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو قُتَيْبَةَ مُسْلِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِمَرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا وَفِي الْبَزِّ صَدَقَتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں میں، بکریوں میں اور کپڑے میں ان کی زکوٰۃ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ حَدَّثَنِي مُوسَى، عَنْ عِمَرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا وَفِي الْبَزِّ صَدَقَتُهُ وَمَنْ رَفَعَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ تِبْرًا أَوْ فِضَّةً لَا يَعُدُّهَا لِغَرِيمٍ وَلَا يُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ كَنْزٌ يُكْوَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". سَقَطَ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ ذِكْرُ الْبَقَرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں میں زکوٰۃ ہے، بکریوں میں زکوٰۃ ہے اور کپڑے میں زکوٰۃ ہے، جس نے دینار و درہم یا سونا و چاندی جمع کیا جسے وہ چٹی میں شمار نہیں کرتا اور نہ ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو وہ کنز ہے، جس کے ساتھ اسے قیامت کے دن داغا جائے گا۔“ اس روایت سے گائے کا تذکرہ ساقط ہو گیا ہے۔
وَقَدْ رَوَاهُ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَلِيٍّ السَّدُوسِيِّ، فَذَكَرَ فِيهِ: وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتَهَا. أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ فَذَكَرَهُ. ⦗٢٤٨⦘.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن علی سدوسی بھی اسے روایت کرتے ہیں، اور اس میں یہ ذکر کیا ہے: ”اور گائے میں زکوٰۃ ہے۔“
وَرَوَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ، عَنْ دَعْلَجِ بْنِ أَحْمَدَ، وَقَالَ: كَتَبْتُهُ مِنَ الْأَصْلِ الْعَتِيقِ وَفِي الْبَزِّ مُقَيَّدًا، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ، ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے دعلج بن احمد سے روایت کیا ہے اور فرمایا: میں نے اسے پرانے اصل نسخے سے لکھا ہے اور اس میں «البز» (کپڑا) کا لفظ اعراب و نقطوں کے ساتھ ضبط شدہ ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ عُثْمَانَ جَاءَهُ أَبُو ذَرٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَالُوا: يَا أَبَا ذَرٍّ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا وَفِي الْبَزِّ صَدَقَتُهُ ". قَالَهَا بِالزَّايِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”اونٹوں میں زکوٰۃ ہے، بکریوں میں بھی زکوٰۃ ہے اور گائے میں بھی زکوٰۃ ہے اور کپڑے میں بھی زکوٰۃ ہے۔“
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلَى عُنُقِي آدِمَةٌ أَحْمِلُهَا فَقَالَ عُمَرُ: " أَلَا تُؤَدِّي زَكَاتَكَ يَا حِمَاسُ؟ " فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا لِي غَيْرُ هَذِهِ الَّتِي عَلَى ظَهْرِي وَآهَبَةٌ فِي الْقَرَظِ، فَقَالَ: " ذَاكَ مَالٌ فَضَعْ "، قَالَ: فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَحَسَبَهَا فَوَجَدْتُ قَدْ وَجَبَتْ فِيهَا الزَّكَاةُ، فَأَخَذَ مِنْهَا الزَّكَاةَ لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَحَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ مُخْتَصَرٌ، قَالَ: كَانَ حِمَاسٌ يَبِيعُ الْأُدُمَ وَالْجِعَابَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَدِّ زَكَاةَ مَالِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا مَالِي جِعَابٌ وَآدَمٌ، فَقَالَ قَوِّمْهُ وَأَدِّ زَكَاتَهُ..
حافظ ثناء اللہ
ابو عمرو بن حماس فرماتے ہیں کہ ان کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، فرماتے ہیں کہ میری گردن پر چمڑا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو اس کی زکاۃ ادا کرتا ہے؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں جو میری پیٹھ پر ہے اور اسے میں نے چھلکوں میں رنگا ہے، تو انہوں نے کہا: یہ مال ہے اسے رکھ۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ان کے سامنے رکھ دیا، انہوں نے اندازہ لگایا تو معلوم ہوا کہ اس میں زکاۃ واجب ہے، پھر اس میں سے زکاۃ وصول کی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ مِثْلَهُ، قَالَهُ عَقِيبَ رِوَايَتِهِ الْأُولَى عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عمرو بن حماس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے ایسی ہی روایت کرتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ روایت سفیان رحمہ اللہ سے اپنی پہلی روایت کے فوراً بعد بیان کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ⦗٢٤٩⦘ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعُرُوضِ زَكَاةٌ إِلَّا مَا كَانَ لِلتِّجَارَةِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَالَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَا زَكَاةَ فِي الْعَرَضِ، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدْيمِ: إِسْنَادُ الْحَدِيثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ضَعِيفٌ فَكَانَ اتِّبَاعُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ لِصِحَّتِهِ وَالِاحْتِيَاطِ فِي الزَّكَاةِ أَحَبُّ إِلَيَّ وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ حَكَى ابْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يُحْكَ خِلَافُهُمْ عَنْ أَحَدٍ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ إِنْ صَحَّ لَا زَكَاةَ فِي الْعَرَضِ أَيْ إِذَا لَمْ يُرَدْ بِهِ التِّجَارَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سامان میں زکاۃ نہیں سوائے مال تجارت کے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ قول عام اہل علم کا ہے اور وہ جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: سامان میں زکاۃ نہیں، تو اس کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے کتابِ قدیم میں فرمایا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کی سند ضعیف ہے، لہٰذا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی اتباع، اس کی صحت کی وجہ سے اور زکاۃ میں احتیاط کی خاطر، مجھے زیادہ پسند ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: ابن المنذر نے سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی ویسا ہی قول نقل کیا ہے جیسا ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور کسی سے ان کے خلاف قول نقل نہیں کیا، تو احتمال ہے کہ ان کے قول ”سامان میں زکاۃ نہیں“ کا مطلب، اگر یہ ثابت ہو، یہ ہو کہ جب اس سے تجارت مقصود نہ ہو۔