حدیث نمبر: 7606
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: " هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ فَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيُؤَدِّ دَيْنَهُ حَتَّى تُحَصَّلَ أَمْوَالُكُمْ فَتُؤَدُّونَ مِنْهَا الزَّكَاةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے، جس پر قرض (وغیرہ) ہو تو وہ اس سے اپنا قرض ادا کر دے، جب تمہارے مال حاصل ہو جائیں تو اس سے زکاۃ ادا کر دو۔
حدیث نمبر: 7607
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطِيبًا عَلَى مَنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ " وَلَمْ يُسَمِّ لِيَ السَّائِبُ الشَّهْرَ وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: " فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَقْضِ دَيْنَهُ حَتَّى تَخْلُصَ أَمْوَالُكُمْ فَتُؤَدُّوا مِنْهَا الزَّكَاةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر رسول ﷺ پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ یہ مہینہ تمہاری زکاۃ کا ہے، مگر سائب نے مہینے کا نام نہیں لیا اور نہ ہی میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے جس شخص پر قرض ہو وہ اپنے قرض کو ادا کرے، جب تمہارے اموال خالص ہو جائیں تو ان کی زکاۃ ادا کرو۔
حدیث نمبر: 7608
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ فِي الرَّجُلِ يَسْتَقْرِضُ فَيُنْفِقُ عَلَى ثَمَرَتِهِ وَعَلَى أَهْلِهِ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " يَبْدَأُ بِمَا اسْتَقْرَضَ فَيَقْضِيهِ وَيُزَكِّي مَا بَقِيَ "، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يَقْضِي مَا أَنْفَقَ عَلَى الثَّمَرَةِ ثُمَّ يُزَكِّي مَا بَقِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو قرض طلب کرے تاکہ وہ اپنے پھل اور اہل پر خرچ کرے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ اپنے قرض سے ادائیگی کا آغاز کرے گا اور وہ بقیہ کی زکاۃ ادا کر دے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو اس نے پھلوں پر خرچ کیا اسے ادا کرے گا، پھر بقیہ کی زکاۃ ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 7609
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَحْدَهُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ مُبَارَكٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج، ابو زبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ طاؤس رحمہ اللہ سے کہ اس پر زکاۃ نہیں۔
حدیث نمبر: 7610
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا يَحْيَى، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: الْأَرْضُ أَزْرَعُهَا، قَالَ: فَقَالَ: " ادْفَعْ نَفَقَتَكَ وَزَكِّ مَا بَقِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن عبد الملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: میں وہ زمین بھی جسے میں کاشت کرتا ہوں؟ وہ کہنے لگے: اپنا خرچہ (اخراجات) ادا کر اور بقیہ کی زکوٰۃ ادا کر۔
حدیث نمبر: 7611
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا يَحْيَى، ثنا مِنْدَلٌ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ زَكَاةٌ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ "..
حافظ ثناء اللہ
حضرت لیث رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ کسی پر اس کے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں جبکہ اس کا قرضہ مال سے زیادہ ہو۔
حدیث نمبر: 7612
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن المبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہشام، حسن رحمہ اللہ سے ایسی ہی روایت نقل فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7613
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " مَا عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ فَزَكَاتُهُ عَلَى صَاحِبِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
فضیل، ابراہیم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جو تجھ پر قرض ہے تو اس کی زکاۃ اس کے مالک پر ہے۔
حدیث نمبر: 7614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مِثْلُهُ أَعَلَيْهِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ: " لَا ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے پوچھا: جس کے پاس مال ہے اور اتنا ہی قرض ہے تو کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ تو انہوں نے کہا: زکوٰۃ نہیں۔
حدیث نمبر: 7615
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَسْتَسْلِفُ عَلَى حَائِطِهِ وَحَرْثِهِ مَا يُحِيطُ بِمَا تُخْرِجُ أَرْضُهُ، فَقَالَ: " لَا نَعْلَمُ فِي السُّنَّةِ أَنْ يُتْرَكَ حَرْثُ أَوْ ثَمَرُ رَجُلٍ عَلَيْهِ فِيهِ دَيْنٌ فَلَا يُزَكِّي وَلَكِنَّهُ يُزَكِّي وَعَلَيْهِ دَيْنُهَ، فَأَمَّا الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ ذَهَبٌ وَوَرِقٌ عَلَيْهِ فِيهِ دَيْنٌ فَإِنَّهُ لَا يُزَكِّي حَتَّى يَقْضِيَ الدَّيْنَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن مبارک رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو باغ اور کھیت کرائے پر لیتا ہے اور اس کی پیداوار کا اندازہ نہیں لگایا جاتا تو انہوں نے کہا: ہم سنت سے نہیں جانتے کہ کھیت یا پھل ایسے آدمی کے لیے جس پر اس میں قرض ہو، پھر وہ زکاۃ ادا نہ کرے، لیکن وہ زکاۃ ادا کرے گا اگر اس پر قرض بھی ہے۔ لیکن وہ شخص جس کے پاس سونا اور چاندی ہو اور اس میں اس پر قرض بھی ہو، تو وہ اتنی دیر زکاۃ نہیں دے گا جب تک قرض ادا نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 7616
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ النَّضْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ: " كَانُوا لَا يَرْصُدُونَ الثِّمَارَ فِي الدَّيْنِ "، قَالَ: قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " وَيَنْبَغِي لِلْعَيْنِ أَنْ تَرْصُدَ فِي الدَّيْنِ " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ فَرَّقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْأَمْوَالِ الظَّاهِرَةِ وَالْأَمْوَالِ الْبَاطِنَةِ.
حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن نضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن سیرین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ پھل کو قرضہ میں نہیں روکتے تھے، فرماتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ مقروض کو لائق ہے کہ وہ اسے قرض میں روک لے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا پرانا مذہب ہے، جس میں انہوں نے ظاہری اور باطنی اموال میں فرق کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا پرانا مذہب ہے، جس میں انہوں نے ظاہری اور باطنی اموال میں فرق کیا ہے۔
حدیث نمبر: 7617
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: " يُزَكِّي مَالَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُهُ ". قَالَ: فَكَلَّمْتُهُ حَتَّى رَجَعَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
مسعر رحمہ اللہ، حکم رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے گا اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے ان سے اس کے متعلق بات کی تو انہوں نے اس سے رجوع کر لیا۔
حدیث نمبر: 7618
قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ أَنَّهُ قَالَ: " يُزَكِّي الرَّجُلُ مَالَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ مِثْلُهُ؛ لَأَنَّهُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَيَنْكِحُ فِيهِ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالظَّوَاهِرُ الَّتِي وَرَدَتْ بِإِيجَابِ الزَّكَاةِ فِي الْأَمْوَالِ تَشْهَدُ لِهَذَا الْقَوْلِ بِالصِّحَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ فِي الْجَدِيدِ وَكَانَ يَقُولُ: حَدِيثُ عُثْمَانَ يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَ بِقَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ حُلُولِ الصَّدَقَةِ فِي الْمَالِ، وَقَوْلُهُ هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ يَجُوزُ أَنْ يَقُولَ: هَذَا الشَّهْرُ الَّذِي إِذَا مَضَى حَلَّتْ زَكَاتُكُمْ كَمَا يُقَالُ شَهْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَإِنَّمَا الْحِجَّةُ بَعْدَ مُضَيِّ أَيَّامٍ مِنْهُ. أَخْبَرَنَا بِهَذَا الْكَلَامِ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے، اگرچہ اس کے برابر اس پر قرض ہو، کیونکہ وہ اسی سے کھاتا اور نکاح کرتا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکاۃ کے وجوب میں آئے ہیں، وہ اس قول کی صحت کی گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کے مشابہ ہے اور انہوں نے مال میں زکاۃ کے وجوب سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، فرمایا: ”یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے“، جائز ہے کہ وہ فرماتے: جب یہ مہینہ گزر جائے گا تو زکاۃ حلال ہوجائے گی، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحجہ کا مہینہ، حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کی خبر ہمیں ابو سعید رحمہ اللہ نے دی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ ظاہری دلائل جو اموال کی زکاۃ کے وجوب میں آئے ہیں، وہ اس قول کی صحت کی گواہی دیتے ہیں اور یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کے مشابہ ہے اور انہوں نے مال میں زکاۃ کے وجوب سے پہلے قرضے کی ادائیگی کا حکم دیا، فرمایا: ”یہ تمہاری زکاۃ کا مہینہ ہے“، جائز ہے کہ وہ فرماتے: جب یہ مہینہ گزر جائے گا تو زکاۃ حلال ہوجائے گی، جس طرح کہا جاتا ہے ذوالحجہ کا مہینہ، حالانکہ حج اس کے چند ایام گزرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کی خبر ہمیں ابو سعید رحمہ اللہ نے دی ہے۔