حدیث نمبر: 7603
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلَى عُنُقِي آدِمَةٌ أَحْمِلُهَا فَقَالَ عُمَرُ: " أَلَا تُؤَدِّي زَكَاتَكَ يَا حِمَاسُ؟ " فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا لِي غَيْرُ هَذِهِ الَّتِي عَلَى ظَهْرِي وَآهَبَةٌ فِي الْقَرَظِ، فَقَالَ: " ذَاكَ مَالٌ فَضَعْ "، قَالَ: فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَحَسَبَهَا فَوَجَدْتُ قَدْ وَجَبَتْ فِيهَا الزَّكَاةُ، فَأَخَذَ مِنْهَا الزَّكَاةَ لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَحَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ مُخْتَصَرٌ، قَالَ: كَانَ حِمَاسٌ يَبِيعُ الْأُدُمَ وَالْجِعَابَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَدِّ زَكَاةَ مَالِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا مَالِي جِعَابٌ وَآدَمٌ، فَقَالَ قَوِّمْهُ وَأَدِّ زَكَاتَهُ..حافظ ثناء اللہ
ابو عمرو بن حماس فرماتے ہیں کہ ان کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، فرماتے ہیں کہ میری گردن پر چمڑا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو اس کی زکاۃ ادا کرتا ہے؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں جو میری پیٹھ پر ہے اور اسے میں نے چھلکوں میں رنگا ہے، تو انہوں نے کہا: یہ مال ہے اسے رکھ۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ان کے سامنے رکھ دیا، انہوں نے اندازہ لگایا تو معلوم ہوا کہ اس میں زکاۃ واجب ہے، پھر اس میں سے زکاۃ وصول کی۔