حدیث نمبر: 7605
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ⦗٢٤٩⦘ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعُرُوضِ زَكَاةٌ إِلَّا مَا كَانَ لِلتِّجَارَةِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَالَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَا زَكَاةَ فِي الْعَرَضِ، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدْيمِ: إِسْنَادُ الْحَدِيثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ضَعِيفٌ فَكَانَ اتِّبَاعُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ لِصِحَّتِهِ وَالِاحْتِيَاطِ فِي الزَّكَاةِ أَحَبُّ إِلَيَّ وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ حَكَى ابْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يُحْكَ خِلَافُهُمْ عَنْ أَحَدٍ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ إِنْ صَحَّ لَا زَكَاةَ فِي الْعَرَضِ أَيْ إِذَا لَمْ يُرَدْ بِهِ التِّجَارَةُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سامان میں زکاۃ نہیں سوائے مال تجارت کے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ قول عام اہل علم کا ہے اور وہ جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: مال تجارت میں زکاۃ نہیں، یہ بات امام شافعی رحمہ اللہ نے کتابِ قدیم میں بیان کی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کی سند ضعیف ہے اور جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی اتباع ہے وہ اس کی صحت کے لحاظ سے ہے، لیکن زکاۃ میں احتیاط کرنا زیادہ بہتر ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب تجارت مقصود نہ ہو تو اس میں زکاۃ نہیں ہے۔