أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ⦗٢٤٩⦘ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعُرُوضِ زَكَاةٌ إِلَّا مَا كَانَ لِلتِّجَارَةِ " قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَالَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَا زَكَاةَ فِي الْعَرَضِ، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدْيمِ: إِسْنَادُ الْحَدِيثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ضَعِيفٌ فَكَانَ اتِّبَاعُ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ لِصِحَّتِهِ وَالِاحْتِيَاطِ فِي الزَّكَاةِ أَحَبُّ إِلَيَّ وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ حَكَى ابْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يُحْكَ خِلَافُهُمْ عَنْ أَحَدٍ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ إِنْ صَحَّ لَا زَكَاةَ فِي الْعَرَضِ أَيْ إِذَا لَمْ يُرَدْ بِهِ التِّجَارَةُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سامان میں زکاۃ نہیں سوائے مال تجارت کے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ قول عام اہل علم کا ہے اور وہ جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: سامان میں زکاۃ نہیں، تو اس کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے کتابِ قدیم میں فرمایا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کی سند ضعیف ہے، لہٰذا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کی اتباع، اس کی صحت کی وجہ سے اور زکاۃ میں احتیاط کی خاطر، مجھے زیادہ پسند ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: ابن المنذر نے سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی ویسا ہی قول نقل کیا ہے جیسا ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور کسی سے ان کے خلاف قول نقل نہیں کیا، تو احتمال ہے کہ ان کے قول ”سامان میں زکاۃ نہیں“ کا مطلب، اگر یہ ثابت ہو، یہ ہو کہ جب اس سے تجارت مقصود نہ ہو۔