کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کھجوروں کا اندازہ (تخمینہ) لگانا اور اس بات کی دلیل کہ شریعت میں اس کا ایک مستقل حکم ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّغَامَجِيُّ. ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، بِمَكَّةَ، سَنَةَ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْرُصُوهَا " فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ: " أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللهُ "، وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى فَسَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا؟ فَقَالَتْ بَلَغَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ وَوُهَيْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم وادیٔ قریٰ میں ایک عورت کے باغ میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا اندازہ لگاؤ“ تو ہم نے اندازہ لگایا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی دس وسق کھجور کا اندازہ لگایا اور فرمایا: ”تو اسے شمار کر یہاں تک کہ ہم ان شاء اللہ واپس آ جائیں“ تو ہم چلے اور تبوک آ گئے۔ پھر حدیث بیان کی اور کہا کہ پھر ہم واپس پلٹے، یہاں تک کہ وادی قریٰ میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے اس کے باغ کے پھل کے بارے میں پوچھا: ”اس کا پھل کتنا ہوا؟“ تو اس نے کہا: وہ دس وسق ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُوَدِ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ: " أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ عَلَى أَنَّ التَّمْرَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ". قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ يَقُولُ: إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِي فَكَانُوا يَأْخُذُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہود سے فرمایا: ”میں تم پر وہ مقرر کرتا ہوں جو اللہ نے تم پر مقرر کیا ہے اس پر کہ کھجور ہمارے اور تمہارے درمیان ہے“، فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تو وہ ان کا اندازہ لگاتے اور پھر کہتے: ”اگر تم چاہو تو یہ تمہارے لیے ہیں اور اگر چاہو تو مجھے دو“ تو وہ لے لیا کرتے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ يَهُوَدَ، قَالَ: فَجَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا لَكَ وَخَفِّفْ عَنَّا وَتَجَاوَزْ فِي الْقَسْمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا مَعْشَرَ يَهُوَدَ، وَاللهِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللهِ إِلَيَّ وَمَا ذَلِكَ بِحَامِلِي عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، فَأَمَّا الَّذِي عَرَّضْتُمْ مِنَ الرِّشْوَةِ فَإِنَّهَا سُحْتٌ وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهَا. قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تھے تو وہ اپنے اور یہود کے درمیان تخمینہ لگاتے، پھر وہ اپنی عورتوں کے زیور جمع کرتے اور کہتے: یہ تیرے لیے ہے، ہم سے کم کر دے اور اپنے حصے میں زیادہ کر لے، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ فرماتے: اے جماعتِ یہود! اللہ کی قسم! تم وہ ہو جنہوں نے اللہ کی مخلوق کو مجھ پر ناراض کیا ہے، تمہاری بات مجھے اس پر آمادہ نہیں کر سکتی کہ میں تم پر زیادتی کروں، لیکن جو تم رشوت پیش کرتے ہو یہ حرام ہے اور یہ ہم نہیں کھاتے، تو وہ کہتے: آسمان و زمین اسی وجہ سے قائم ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُوَدِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللهِ، وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللهِ وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، قَدْ خَرَصْتُ عَلَيْكُمْ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، قَالُوا: قَدْ أَخَذْنَا فَاخْرُجُوا عَنَّا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں بنو نضیر دیے تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں اسی پر برقرار رکھا، ان کے اور اپنے درمیان معاہدہ کرلیا۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو انھوں نے تخمینہ لگایا۔ پھر ان سے کہا: ”اے جماعتِ یہود! تم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تم نے انبیاءِ اللہ کو قتل کیا اور اللہ پر جھوٹ بولا، نہیں، میرا بغض مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرتا کہ میں تم پر زیادتی کروں، میں نے تمہاری کھجور کا تخمینہ لگایا ہے جو بیس ہزار وسق ہے۔ اگر تم چاہو تو تم لے لو اگر تم انکار کرو تو پھر میرے لیے ہیں“ تو انھوں نے کہا: ”اسی بنا پر زمین و آسمان قائم ہیں“۔ پھر انھوں نے کہا: ”ہم نے لے لیا اور تم اپنا حصہ اس سے نکال لو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى يَهُوَدَ، فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ حِينَ يُطَيَّبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُوَدَ يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَمْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کا واقعہ نقل فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کی طرف بھیجتے تو وہ ان کی کھجوروں کا اندازہ لگایا کرتے۔ جب وہ کھانے سے پہلے درست ہو جاتیں، پھر وہ یہود کو اختیار دیتے کہ وہ اس اندازے کے مطابق رکھ لیں یا عبداللہ بن رواحہ کو لوٹا دیتے، تاکہ وہ زکاۃ کا اندازہ کر سکیں اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور جدا جدا کیے جائیں۔