کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس قول کا بیان کہ باغ کے مالک کے لیے اتنا پھل چھوڑ دیا جائے گا جتنا وہ اور اس کے اہل و عیال کھاتے ہیں اور جو وہ مساکین کو عطیہ کر دیتا ہے، اس حصے پر تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔
وَذَكَرَ مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِلْخَرْصِ: " لَا تَخْرُصُوا الْعَرَايَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تخمینہ لگانے والے سے فرماتے تھے: ”ہبہ شدہ کا اندازہ نہ لگایا جائے۔“
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ فُطَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَخْرُصُ الْعَرَايَا، وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَهُمَا مُرْسَلَانِ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مَوْصُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج، فطیر انصاری سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہبہ شدہ کا اندازہ نہیں لگایا کرتے تھے اور نہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما۔
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، اور اس بارے میں ایک موصول حدیث بھی مروی ہے۔
یہ دونوں روایات مرسل ہیں، اور اس بارے میں ایک موصول حدیث بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سہل بن حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں آئے اور کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ ”جب تم اندازہ لگاؤ تو تہائی حصہ چھوڑ دو۔ اگر تہائی نہیں چھوڑتے تو چوتھائی چھوڑ دو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُغِيثٍ الْجُرَشِيُّ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ زُبَيْدٍ الْمَدِينِيِّ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْخَرْصِ، فَقَالَ: " اثْبِتْ لَنَا النِّصْفَ وَأَبْقِ لَهُمُ النِّصْفَ فَإِنَّهُمْ يَسْرِقُونَ وَلَا يَصِلُ إِلَيْهِمْ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: قَدْ ثَبَتَ عِنْدَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اثْبِتْ لَنَا الثُّلُثَيْنِ وَأَبْقِ لَهُمُ الثُّلُثَ " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُوَلٌ وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
صلت بن زبید مدینی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے دادا سے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے عامل بنا کر تخمینہ لگانے کے لیے بھیجا اور اسے کہا: ”آدھا ہمارے لیے لکھ لو اور آدھا ان کے لیے چھوڑ دو، بے شک ان کی چوری ہو جاتی ہے اور (پورا پھل) ان تک نہیں پہنچتا۔“
محمد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر کو بیان کی تو انہوں نے کہا: ہمارے نزدیک یہ ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دو تہائی ہمارے لیے لکھ لو اور تہائی ان کے لیے چھوڑ دو۔“
یہ سند مجہول ہے، اور اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
محمد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عبیداللہ بن عمر کو بیان کی تو انہوں نے کہا: ہمارے نزدیک یہ ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دو تہائی ہمارے لیے لکھ لو اور تہائی ان کے لیے چھوڑ دو۔“
یہ سند مجہول ہے، اور اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ ابْنِ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو كَشْمَرْدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ يَبْعَثُ أَبَا حَثْمَةَ خَارِصًا يَخْرُصُ النَّخْلَ، فَيَأْمُرُهُ إِذَا وَجَدَ الْقَوْمَ فِي حَائِطِهِمْ يَخْرُصُونَهُ أَنْ يَدَعَ لَهُمْ مَا يَأْكُلُونَهُ فَلَا يَخْرُصُهُ. وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدْيمِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
بشیر بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کو اندازے کے لیے بھیجتے تھے، وہ کھجوروں کا اندازہ لگاتے تھے اور انہیں حکم دیا کرتے کہ جب تم قوم کو ان کے باغ میں پاؤ تو ان کے لیے وہ چھوڑ دو جسے وہ کھائیں اور اس کا اندازہ نہ لگاؤ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ عَلَى خَرْصِ التَّمْرِ، وَقَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ أَرْضًا فَاخْرُصْهَا وَدَعْ لَهَا قَدْرَ مَا يَأْكُلُونَ " وَقَدْ ذَكَرَهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں کھجور کا اندازہ لگانے کے لیے بھیجا اور کہا: جب تم اس زمین میں آؤ تو تخمینہ لگاؤ اور ان کے لیے اس قدر چھوڑ دو جو وہ کھائیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " خَفِّفُوا عَلَى النَّاسِ فِي الْخَرْصِ فَإِنَّ فِيهِ الْعَرِيَّةَ وَالْوَطِيَّةَ وَالْأَكَلَةَ " قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ: لِأَبِي عَمْرٍو وَمَا الْعَرِيَّةُ؟ قَالَ: النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ وَالثَّلَاثُ ⦗٢٠٩⦘ يَمْنَحُهَا الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْحَاجَةِ، قُلْتُ: فَمَا الْأَكَلَةُ؟ قَالَ: أَهْلُ الْمَالِ يَأْكُلُونَ مِنْهُ رُطَبًا فَلَا يُخْرَصُ ذَلِكَ وَيُوضَعُ مِنْ خَرْصِهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الْوَطِيَّةُ؟ قَالَ: مَنْ يَغْشَاهُمْ وَيَزُورُهُمْ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا اللَّفْظُ الَّذِي رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّخْفِيفِ قَدْ رَوَاهُ مَكْحُولٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عمرو اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (تخمینہ لگانے والوں کو) بھیجتے اور فرماتے: ”ان کے لیے آسانی کرنا، بے شک ان میں «العَرِيَّةُ» ”عریہ“، «الوَطِيَّةُ» ”وطیہ“ اور «الأَكِلَةُ» ”اکلہ“ بھی ہوتے ہیں۔“ ولید کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو سے کہا: «العَرِيَّةُ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایک، دو یا تین کھجور کے درخت ہیں جو آدمی کسی ضرورت مند آدمی کو عطیہ دے دیتا ہے۔“ پھر میں نے کہا: «الأَكِلَةُ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”مال والے جو اس میں سے تازہ کھاتے ہیں، اس کا اندازہ نہ لگائیں اور اندازے لگاتے وقت انہیں نکال لیں۔“ میں نے کہا: «الوَطِيَّةُ» کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”ان کے مہمان جو ان کے پاس آتے ہیں اور ان کے پاس رہتے ہیں۔“
یہ الفاظ جو اوزاعی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تخفیف کے بارے میں روایت کیے ہیں، انہیں مکحول نے نبی کریم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے جس کی سند قوی نہیں ہے۔
یہ الفاظ جو اوزاعی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تخفیف کے بارے میں روایت کیے ہیں، انہیں مکحول نے نبی کریم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے جس کی سند قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَاطُوا لِأَهْلِ الْأَمْوَالِ فِي الْوَاطِيَّةِ وَالْعَامِلَةِ وَالنَّوَائِبِ وَمَا وَجَبَ فِي التَّمْرِ مِنَ الْحَقِّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مال والوں کے لیے احتیاط کرو (خیال کرو) آنے والے مہمانوں اور کام کرنے والوں اور مصائب میں، اور کھجور میں جو حق واجب ہوتا ہے اس میں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ عَقِيلٍ، ثنا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدٍ ابْنَيْ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِمَا، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ مُرْسَلٍ لَيْسَ فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حرام بن عثمان، جابر رضی اللہ عنہ کے بیٹوں عبد الرحمن اور محمد سے، اور وہ اپنے والد سے یہی حدیث مرفوعاً نقل کرتے ہیں۔
اور نبی کریم ﷺ سے ایک مرسل حدیث میں مروی ہے کہ: ”عرایا (ہبہ کی ہوئی کھجوروں) میں زکوٰۃ نہیں۔“
اور نبی کریم ﷺ سے ایک مرسل حدیث میں مروی ہے کہ: ”عرایا (ہبہ کی ہوئی کھجوروں) میں زکوٰۃ نہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفِّهِ بِخَمْسِ أَصَابِعَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ". وَزَادَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ⦗٢١٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ يَرْوِي حَدِيثَ الْأَوَاقِ وَالْأَوْسَاقِ وَالْأَذْوَادِ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةُ مَعَهَا فِي الْحَدِيثِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا اور آپ نے ہاتھ کی پانچ انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا کہ ”پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔“ اور نبی کریم ﷺ سے یہ بھی نقل کیا کہ ”ہبہ کی ہوئی کھجوروں میں زکوٰۃ نہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: محمد بن یحییٰ بن حبان، اوقیہ، وسق اور اونٹوں والی حدیث یحییٰ بن عمارہ سے اور وہ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، تو ممکن ہے کہ یہ اضافہ بھی حدیث میں اس کے ساتھ ہو، واللہ اعلم۔
شیخ فرماتے ہیں: محمد بن یحییٰ بن حبان، اوقیہ، وسق اور اونٹوں والی حدیث یحییٰ بن عمارہ سے اور وہ ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، تو ممکن ہے کہ یہ اضافہ بھی حدیث میں اس کے ساتھ ہو، واللہ اعلم۔