السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: خرص التمر والدليل على أن له حكما باب: کھجوروں کا اندازہ (تخمینہ) لگانا اور اس بات کی دلیل کہ شریعت میں اس کا ایک مستقل حکم ہے۔
حدیث نمبر: 7438
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ يَهُوَدَ، قَالَ: فَجَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا لَكَ وَخَفِّفْ عَنَّا وَتَجَاوَزْ فِي الْقَسْمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا مَعْشَرَ يَهُوَدَ، وَاللهِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللهِ إِلَيَّ وَمَا ذَلِكَ بِحَامِلِي عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، فَأَمَّا الَّذِي عَرَّضْتُمْ مِنَ الرِّشْوَةِ فَإِنَّهَا سُحْتٌ وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهَا. قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تھے تو وہ اپنے اور یہود کے درمیان تخمینہ لگاتے، پھر وہ اپنی عورتوں کے زیور جمع کرتے اور کہتے: یہ تیرے لیے ہے، ہم سے کم کر دے اور اپنے حصے میں زیادہ کر لے، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ فرماتے: اے جماعتِ یہود! اللہ کی قسم! تم وہ ہو جنہوں نے اللہ کی مخلوق کو مجھ پر ناراض کیا ہے، تمہاری بات مجھے اس پر آمادہ نہیں کر سکتی کہ میں تم پر زیادتی کروں، لیکن جو تم رشوت پیش کرتے ہو یہ حرام ہے اور یہ ہم نہیں کھاتے، تو وہ کہتے: آسمان و زمین اسی وجہ سے قائم ہیں۔