السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: خرص التمر والدليل على أن له حكما باب: کھجوروں کا اندازہ (تخمینہ) لگانا اور اس بات کی دلیل کہ شریعت میں اس کا ایک مستقل حکم ہے۔
حدیث نمبر: 7440
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى يَهُوَدَ، فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ حِينَ يُطَيَّبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُ يَهُوَدَ يَأْخُذُونَهُ بِذَلِكَ الْخَرْصِ أَمْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ الْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتُفَرَّقَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کا واقعہ نقل فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کی طرف بھیجتے تو وہ ان کی کھجوروں کا اندازہ لگایا کرتے۔ جب وہ کھانے سے پہلے درست ہو جاتیں، پھر وہ یہود کو اختیار دیتے کہ وہ اس اندازے کے مطابق رکھ لیں یا عبداللہ بن رواحہ کو لوٹا دیتے، تاکہ وہ زکاۃ کا اندازہ کر سکیں اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور جدا جدا کیے جائیں۔