السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: خرص التمر والدليل على أن له حكما باب: کھجوروں کا اندازہ (تخمینہ) لگانا اور اس بات کی دلیل کہ شریعت میں اس کا ایک مستقل حکم ہے۔
حدیث نمبر: 7437
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُوَدِ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ: " أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ عَلَى أَنَّ التَّمْرَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ". قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ يَقُولُ: إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِي فَكَانُوا يَأْخُذُونَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہود سے فرمایا: ”میں تم پر وہ مقرر کرتا ہوں جو اللہ نے تم پر مقرر کیا ہے اس پر کہ کھجور ہمارے اور تمہارے درمیان ہے“، فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کرتے تو وہ ان کا اندازہ لگاتے اور پھر کہتے: ”اگر تم چاہو تو یہ تمہارے لیے ہیں اور اگر چاہو تو مجھے دو“ تو وہ لے لیا کرتے۔