السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: خرص التمر والدليل على أن له حكما باب: کھجوروں کا اندازہ (تخمینہ) لگانا اور اس بات کی دلیل کہ شریعت میں اس کا ایک مستقل حکم ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُوَدِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللهِ، وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللهِ وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، قَدْ خَرَصْتُ عَلَيْكُمْ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، قَالُوا: قَدْ أَخَذْنَا فَاخْرُجُوا عَنَّا ".سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں بنو نضیر دیے تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں اسی پر برقرار رکھا، ان کے اور اپنے درمیان معاہدہ کرلیا۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو انھوں نے تخمینہ لگایا۔ پھر ان سے کہا: ”اے جماعتِ یہود! تم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تم نے انبیاءِ اللہ کو قتل کیا اور اللہ پر جھوٹ بولا، نہیں، میرا بغض مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرتا کہ میں تم پر زیادتی کروں، میں نے تمہاری کھجور کا تخمینہ لگایا ہے جو بیس ہزار وسق ہے۔ اگر تم چاہو تو تم لے لو اگر تم انکار کرو تو پھر میرے لیے ہیں“ تو انھوں نے کہا: ”اسی بنا پر زمین و آسمان قائم ہیں“۔ پھر انھوں نے کہا: ”ہم نے لے لیا اور تم اپنا حصہ اس سے نکال لو“۔