کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پچیس اونٹوں اور ایک سو بیس سے زائد اونٹوں کے بارے میں گزشتہ تفصیل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عاصم بن ضمرہ کی روایت کا ذکر، اور اس روایت کے ساتھ ساتھ قیس بن سعد سے مروی حماد بن سلمہ کی روایت کے ضعیف ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ خَمْسٌ يَعْنِي شِيَاهٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن مرہ رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پچیس اونٹوں میں پانچ ہیں، یعنی بکریاں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ وَزَادَ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ قَالَ: " تُرَدُّ الْفَرَائِضُ إِلَى أَوَّلِهَا فَإِذَا كَثُرَتِ الْإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ " وَهَذَا أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ مِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عاصم رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے اور یہ زیادہ بیان کیا کہ ”جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو فرائض اپنی ابتدا کی طرف لوٹا دیے جائیں گے اور جب اونٹ زیادہ ہو جائیں تو پھر ہر پچاس میں حقہ ہے“ اور سفیان رحمہ اللہ کو یہ قول اہل حجاز کے قول سے زیادہ پسند ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فِي الْإِبِلِ إِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ يُسْتَأْنَفُ بِهَا الْفَرَائِضُ " ⦗١٥٦⦘ وَعَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو يُوسُفَ يَعْنِي يَعْقُوبَ بْنَ سُفْيَانَ: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ: كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ يُغَلِّطُ فِيهِ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ. وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَمْ يُغَلِّطْ فِي هَذَا وَقَدْ تَابَعَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَهَذَا مَشْهُورٌ مِنْ رِوَايَةِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ وَقَدْ أَنْكَرَ أَهْلُ الْعِلْمِ هَذَا عَلَى عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ لِأَنَّ رِوَايَةَ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ خِلَافُ كِتَابِ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَخِلَافُ كِتَابِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ رَحِمَهُ اللهُ فَإِنَّهُ أَحَالَ بِالْغَلَطِ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَذَلِكَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عاصم رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب اونٹ ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو پھر اسی حساب سے فرائض نئے سرے سے شروع کیے جائیں گے۔ سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
ابو یوسف یعقوب بن سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: یحییٰ بن سعید، سفیان ثوری سے، وہ ابواسحاق سے، وہ عاصم سے اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کرتے تھے جس میں وہ غلطی کرتے تھے کہ انہوں نے فرمایا: جب اونٹ ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو فریضہ نئے سرے سے شروع ہوگا۔ (یعقوب کہتے ہیں:) یحییٰ بن سعید نے اس میں غلطی نہیں کی، ابن مبارک نے ان کی متابعت کی ہے اور یہ سفیان عن ابی اسحاق عن عاصم عن علی کی روایت سے مشہور ہے، البتہ اہل علم نے عاصم بن ضمرہ پر اس روایت کا انکار کیا ہے، کیونکہ عاصم بن ضمرہ کی علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت آلِ عمرو بن حزم کی تحریر اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تحریر کے خلاف ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا تعلق ہے تو انہوں نے غلطی کی نسبت یحییٰ بن سعید کی طرف کی ہے۔
ابو یوسف یعقوب بن سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: یحییٰ بن سعید، سفیان ثوری سے، وہ ابواسحاق سے، وہ عاصم سے اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کرتے تھے جس میں وہ غلطی کرتے تھے کہ انہوں نے فرمایا: جب اونٹ ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو فریضہ نئے سرے سے شروع ہوگا۔ (یعقوب کہتے ہیں:) یحییٰ بن سعید نے اس میں غلطی نہیں کی، ابن مبارک نے ان کی متابعت کی ہے اور یہ سفیان عن ابی اسحاق عن عاصم عن علی کی روایت سے مشہور ہے، البتہ اہل علم نے عاصم بن ضمرہ پر اس روایت کا انکار کیا ہے، کیونکہ عاصم بن ضمرہ کی علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت آلِ عمرو بن حزم کی تحریر اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تحریر کے خلاف ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں تک ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا تعلق ہے تو انہوں نے غلطی کی نسبت یحییٰ بن سعید کی طرف کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ يُغَلِّطُ فِيهِ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: " إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ " قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: وَحَدَّثَ بِهِ وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ عَلَى الْحِسَابِ الْأَوَّلِ. قَالَ يَحْيَى: هَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن سعید، سفیان ثوری سے، وہ ابواسحاق سے، وہ عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کرتے تھے جس میں وہ غلطی کرتے تھے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب اونٹ ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو فریضہ نئے سرے سے شروع ہوگا۔“
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے وکیع رحمہ اللہ نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ جب اونٹ ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو فریضہ پہلے حساب کے مطابق نئے سرے سے شروع ہوگا۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ صحیح ہے۔
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے وکیع رحمہ اللہ نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ جب اونٹ ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو فریضہ پہلے حساب کے مطابق نئے سرے سے شروع ہوگا۔ یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ صحیح ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَ عَنْ سُفْيَانَ، بِحَدِيثٍ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ عَلَى الْحِسَابِ الْأَوَّلِ " فَقَالَ: هَذَا غَلَطٌ، قَالَ: وَذَكَرْتُ لِيَحْيَى حَدِيثَ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ عَلَى الْحِسَابِ الْأَوَّلِ، فَقَالَ: هَذَا صَحِيحٌ قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُ يَحْيَى فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا عَابَ عَلَى يَحْيَى الْقَطَّانِ رِوَايَتَهَ عَنْ سُفْيَانَ حَدِيثًا تَفَرَّدَ بِهِ سُفْيَانُ وَهُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ غَلَطٌ، وَهُوَ يَتَّقِي أَمْثَالَ ذَلِكَ فَلَا يَرْوِي إِلَّا مَا هُوَ صَحِيحٌ عِنْدَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ. وَأَمَّا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَئِمَّةِ فَإِنَّهُمْ أَحَالُوا بِالْغَلَطِ عَلَى عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَاسْتَدَلُّوا عَلَى خَطَئِهِ ⦗١٥٧⦘ بِمَا فِيهِ مِنَ الْخِلَافِ لِلرِّوَايَاتِ الْمَشْهُوَرَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الصَّدَقَاتِ. وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فَإِنَّهُ قَالَ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ: رَوَى هَذَا مَجْهُوَلٌ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَكْثَرُ الرُّوَاةِ عَنْ ذَلِكَ الْمَجْهُولِ يَزْعُمُ أَنَّ الَّذِي رَوَى هَذَا عَنْهُ غَلِطَ عَلَيْهِ وَأَنَّ هَذَا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ، يُرِيدُ قَوْلَهُ فِي الِاسْتِئْنَافِ وَاسْتَدَلَّ عَلَى هَذَا فِي كِتَابٍ آخَرَ بِرِوَايَةِ مَنْ رَوَى عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
مفضل بن غسان غلابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے ایک ایسی حدیث بیان کی جس میں وہ ابواسحاق سے، وہ عاصم بن ضمرہ سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں کہ ”جب اونٹ ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو پہلے حساب کے مطابق فریضہ نئے سرے سے شروع ہوگا“ تو انہوں نے کہا: یہ غلط ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ کے سامنے وکیع کی حدیث کا تذکرہ کیا جو انہوں نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے نقل کی کہ جب اونٹ ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو پہلے حساب کے مطابق فریضہ نئے سرے سے شروع ہوگا، تو انہوں نے کہا: یہ صحیح ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں یحییٰ (بن معین) کے قول میں یہ احتمال ہے کہ انہوں نے یحییٰ قطان پر صرف یہ عیب لگایا ہو کہ انہوں نے سفیان سے ایسی حدیث روایت کی جس میں سفیان منفرد ہیں اور وہ اہل علم کے نزدیک غلط ہے، حالانکہ وہ ایسی باتوں سے بچتے تھے اور صرف وہی روایت کرتے تھے جو ان کے نزدیک صحیح ہو، واللہ اعلم۔ جہاں تک ابو یوسف یعقوب بن سفیان فارسی اور دیگر ائمہ کا تعلق ہے تو انہوں نے غلطی کی نسبت عاصم بن ضمرہ کی طرف کی ہے اور ان کی غلطی پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ اس میں زکوٰۃ کے بارے میں نبی کریم ﷺ اور پھر سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مروی مشہور روایات کی مخالفت ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی قدیم کتاب میں فرمایا: اسے ایک مجہول راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس مجہول سے روایت کرنے والے اکثر راویوں کا خیال ہے کہ جس نے اس سے یہ روایت کی ہے اس نے اس پر غلطی کی ہے اور یہ اس کی حدیث میں نہیں ہے، ان کی مراد نئے سرے سے شروع کرنے والی بات ہے، اور ایک دوسری کتاب میں انہوں نے اس پر ان لوگوں کی روایت سے استدلال کیا ہے جنہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے عاصم سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کیا ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں یحییٰ (بن معین) کے قول میں یہ احتمال ہے کہ انہوں نے یحییٰ قطان پر صرف یہ عیب لگایا ہو کہ انہوں نے سفیان سے ایسی حدیث روایت کی جس میں سفیان منفرد ہیں اور وہ اہل علم کے نزدیک غلط ہے، حالانکہ وہ ایسی باتوں سے بچتے تھے اور صرف وہی روایت کرتے تھے جو ان کے نزدیک صحیح ہو، واللہ اعلم۔ جہاں تک ابو یوسف یعقوب بن سفیان فارسی اور دیگر ائمہ کا تعلق ہے تو انہوں نے غلطی کی نسبت عاصم بن ضمرہ کی طرف کی ہے اور ان کی غلطی پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ اس میں زکوٰۃ کے بارے میں نبی کریم ﷺ اور پھر سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے مروی مشہور روایات کی مخالفت ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی قدیم کتاب میں فرمایا: اسے ایک مجہول راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس مجہول سے روایت کرنے والے اکثر راویوں کا خیال ہے کہ جس نے اس سے یہ روایت کی ہے اس نے اس پر غلطی کی ہے اور یہ اس کی حدیث میں نہیں ہے، ان کی مراد نئے سرے سے شروع کرنے والی بات ہے، اور ایک دوسری کتاب میں انہوں نے اس پر ان لوگوں کی روایت سے استدلال کیا ہے جنہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے عاصم سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ " إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " قَالَ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ وَغَيْرُهُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا نَقُولُ وَهُوَ مُوَافِقٌ لِلسُّنَّةِ، وَهُمْ يَعْنِي بَعْضَ الْعِرَاقِيِّينَ لَا يَأْخُذُونَ بِهَذَا فَيُخَالِفُونَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَالثَّابِتُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَهُمْ إِلَى قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ وَشَيْءٍ يُغَلَّطُ بِهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب اونٹ ایک سو بیس سے زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہوگی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم یہی کہتے ہیں اور یہ سنت کے موافق ہے، بعض عراقی اسے نہیں لیتے، چنانچہ وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں جو نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور اس کی بھی جو ان کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، اور ابراہیم کے قول کی طرف اور ایسی بات کی طرف چلے جاتے ہیں جو غلطی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم یہی کہتے ہیں اور یہ سنت کے موافق ہے، بعض عراقی اسے نہیں لیتے، چنانچہ وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں جو نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور اس کی بھی جو ان کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، اور ابراہیم کے قول کی طرف اور ایسی بات کی طرف چلے جاتے ہیں جو غلطی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ صَدَقَةِ الْإِبِلِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسُ شِيَاهٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ إِلَى تِسْعِينَ. قَالَ: " فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ " ⦗١٥٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ، وَالْحَارِثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پانچ اونٹوں میں ایک بکری ہے، اور دس میں دو بکریاں ہیں، اور پندرہ میں تین بکریاں ہیں، اور بیس میں چار بکریاں ہیں، اور پچیس میں پانچ بکریاں ہیں، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پینتیس تک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہے، پھر زیادہ ہوں تو پینتالیس تک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہے، اسی طرح اونٹوں کی زکوۃ نوے تک ہے، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ایک سو بیس تک دو «حِقَّتَانِ» ”حقے“ ہوں گے جو سانڈ کو قبول کریں، پھر اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس میں «حِقَّةٌ» ”حقہ“ اور ہر چالیس میں «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہے۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَحْسِبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " هَاتُوا رُبْعَ الْعُشْرِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: " وَفِي الْإِبِلِ " فَذَكَرَ صَدَقَتَهَا كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسٌ مِنَ الْغَنَمِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنِ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً يَعْنِي عَلَى التِّسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ. لَيْسَ فِيهِ مَا فِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مِنَ الِاسْتِئْنَافِ وَفِيهِ وَفِي كَثِيرٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسُ شِيَاهٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى تَرْكِ الْقَوْلِ بِهِ؛ لِمُخَالَفَةِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ وَالْحَارِثِ الْأَعْوَرِ عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُوَرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الصَّدَقَاتِ فِي ذَلِكَ، كَذَلِكَ رِوَايَةُ مَنْ رُوِيَ عَنْهُ الِاسْتِئْنَافُ مُخَالِفَةٌ لِتِلْكَ الرِّوَايَاتِ الْمَشْهُوَرَةِ مَعَ مَا فِي نَفْسِهَا مِنَ الِاخْتِلَافِ وَالْغَلَطِ، وَطَعَنَ أَئِمَّةُ أَهْلِ النَّقْلِ فِيهَا فَوَجَبَ تَرْكُهَا وَالْمَصِيرُ إِلَى مَا هُوَ أَقْوَى مِنْهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ..
حافظ ثناء اللہ
زہیر رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”«عُشْر» کا چوتھائی حصہ لاؤ“، پھر اس حدیث کو یہاں تک بیان کیا اور اونٹوں میں۔۔۔ پھر ان کی زکاۃ ایسے ہی بیان کی جیسے زہری رحمہ اللہ نے بیان کی کہ پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں ہیں۔ جب ایک زیادہ ہو جائے تو اس میں «بِنْت مَخَاض» ہوگی۔ اگر «بِنْت مَخَاض» نہ ہو تو پھر «ابْن لَبُون» مذکر ہوگا پینتیس تک۔ پھر حدیث بیان کی کہ جب ایک زیادہ ہو جائے یعنی نوے سے تو اس میں دو «حِقَّة» ہیں سانڈ کو قبول کرنے والے اور یہ ایک سو بیس تک ہیں۔ اگر اونٹ اس سے زیادہ ہو جائیں تو پھر ہر پچاس میں «حِقَّة» ہے۔
اس میں وہ بات نہیں جو سفیان کی ابواسحاق سے روایت میں نئے سرے سے شروع کرنے کے بارے میں ہے۔ اس میں اور ان سے مروی بہت سی روایات میں ہے کہ پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں ہیں، اور اہل علم نے اس قول کو ترک کرنے پر اجماع کیا ہے، کیونکہ عاصم بن ضمرہ اور حارث اعور کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس بارے میں نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے زکوٰۃ کے متعلق مشہور روایات کے خلاف ہے۔ اسی طرح جس نے ان سے نئے سرے سے شروع کرنے والی بات روایت کی ہے اس کی روایت بھی ان مشہور روایات کے خلاف ہے، اور خود اس میں بھی اختلاف اور غلطی موجود ہے، اور ائمہ نقل نے اس پر طعن کیا ہے، لہٰذا اسے ترک کرنا اور اس سے زیادہ قوی روایت کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔ وباللہ التوفیق۔
اس میں وہ بات نہیں جو سفیان کی ابواسحاق سے روایت میں نئے سرے سے شروع کرنے کے بارے میں ہے۔ اس میں اور ان سے مروی بہت سی روایات میں ہے کہ پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں ہیں، اور اہل علم نے اس قول کو ترک کرنے پر اجماع کیا ہے، کیونکہ عاصم بن ضمرہ اور حارث اعور کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس بارے میں نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے زکوٰۃ کے متعلق مشہور روایات کے خلاف ہے۔ اسی طرح جس نے ان سے نئے سرے سے شروع کرنے والی بات روایت کی ہے اس کی روایت بھی ان مشہور روایات کے خلاف ہے، اور خود اس میں بھی اختلاف اور غلطی موجود ہے، اور ائمہ نقل نے اس پر طعن کیا ہے، لہٰذا اسے ترک کرنا اور اس سے زیادہ قوی روایت کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔ وباللہ التوفیق۔
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي ذَكَرَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: قَالَ حَمَّادٌ: قُلْتُ لِقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ خُذْ لِي كِتَابَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَعْطَانِي كِتَابًا أَخْبَرَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لِجَدِّهِ، فَقَرَأْتُهُ فَكَانَ فِيهِ ذِكْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْ فَرَائِضِ الْإِبِلِ، فَقَصَّ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَعُدَّ فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً وَمَا فَضَلَ فَإِنَّهُ يُعَادُ إِلَى أَوْلِ فَرِيضَةِ الْإِبِلِ، وَمَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ لَيْسَ فِيهَا ذَكَرٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ فَهَذَا فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ السُّلَيْمَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ أَخَذَهُ عَنْ كِتَابٍ لَا عَنْ سَمَاعٍ، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخَذَهُ عَنْ كِتَابٍ لَا عَنْ سَمَاعٍ وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ ⦗١٥٩⦘ سَلَمَةَ وَإِنْ كَانَا مِنَ الثِّقَاتِ فَرِوَايَتُهُمَا هَذِهِ بِخِلَافِ رِوَايَةِ الْحُفَّاظِ عَنْ كِتَابِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَغَيْرِهِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ سَاءَ حِفْظُهُ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، فَالْحُفَّاظُ لَا يَحْتَجُّونَ بِمَا يُخَالِفُ فِيهِ وَيَتَجَنَّبُونَ مَا يَتَفَرَّدُ بِهِ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ خَاصَّةً وَأَمْثَالِهِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ جَمَعَ الْأَمْرَيْنِ مَعَ مَا فِيهِ مِنَ الِانْقِطَاعِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ..
حافظ ثناء اللہ
حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے قیس بن سعد سے کہا: مجھے محمد بن عمرو بن حزم کی تحریر لا دیجیے، تو انہوں نے مجھے ایک تحریر دی اور بتایا کہ انہوں نے اسے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے لیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ ان کے دادا کے لیے لکھی تھی۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں اونٹوں کے فرائض میں سے نکالی جانے والی زکوۃ کا ذکر تھا۔ پھر حدیث بیان کی، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں: ”جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس میں ایک حقہ شمار کرو اور جو بچ رہیں تو انہیں اونٹوں کے پہلے فریضے کی طرف لوٹایا جائے گا اور جو پچیس سے کم ہوں تو اس میں بکریاں ہیں۔ ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری ہوگی، نہ نر، نہ بوڑھی اور نہ ہی بکریوں میں سے عیب والی۔“
یہ روایت ابوبکر بن حزم اور نبی کریم ﷺ کے درمیان منقطع ہے، قیس بن سعد نے اسے تحریر سے لیا ہے، سن کر نہیں، اور اسی طرح حماد بن سلمہ نے بھی اسے تحریر سے لیا ہے، سن کر نہیں۔ قیس بن سعد اور حماد بن سلمہ اگرچہ ثقہ راویوں میں سے ہیں، لیکن ان کی یہ روایت عمرو بن حزم وغیرہ کی تحریر سے حفاظ کی روایت کے خلاف ہے، اور حماد بن سلمہ کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا، لہٰذا حفاظ اس روایت کو دلیل نہیں بناتے جس میں وہ دوسروں کی مخالفت کریں اور اس سے بچتے ہیں جس میں وہ خاص طور پر قیس بن سعد اور ان جیسوں سے منفرد ہوں، اور اس حدیث میں انقطاع کے ساتھ ساتھ یہ دونوں باتیں جمع ہیں۔ وباللہ التوفیق۔
یہ روایت ابوبکر بن حزم اور نبی کریم ﷺ کے درمیان منقطع ہے، قیس بن سعد نے اسے تحریر سے لیا ہے، سن کر نہیں، اور اسی طرح حماد بن سلمہ نے بھی اسے تحریر سے لیا ہے، سن کر نہیں۔ قیس بن سعد اور حماد بن سلمہ اگرچہ ثقہ راویوں میں سے ہیں، لیکن ان کی یہ روایت عمرو بن حزم وغیرہ کی تحریر سے حفاظ کی روایت کے خلاف ہے، اور حماد بن سلمہ کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا، لہٰذا حفاظ اس روایت کو دلیل نہیں بناتے جس میں وہ دوسروں کی مخالفت کریں اور اس سے بچتے ہیں جس میں وہ خاص طور پر قیس بن سعد اور ان جیسوں سے منفرد ہوں، اور اس حدیث میں انقطاع کے ساتھ ساتھ یہ دونوں باتیں جمع ہیں۔ وباللہ التوفیق۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا عَبْدُ اللهِ الْبَغَوِيُّ ثنا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْقَطَّانُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ لَيْسَ بِذَاكَ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: إِنْ كَانَ مَا حَدَّثَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ حَقًّا فَلَيْسَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ بِشَيْءٍ وَلَكِنْ حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ الشيوخِ عَنْ ثَابِتٍ، وَهَذَا الضَّرْبُ يَعْنِي أَنَّهُ ثَبْتٌ فِيهَا..
حافظ ثناء اللہ
علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ نے فرمایا: حماد بن سلمہ کی زیاد اعلم اور قیس بن سعد سے روایت کچھ زیادہ اچھی نہیں۔ پھر یحییٰ نے فرمایا: اگر وہ بات درست ہے جو حماد بن سلمہ نے قیس بن سعد سے بیان کی ہے تو قیس بن سعد کچھ بھی نہیں، لیکن حماد بن سلمہ کی (معروف) شیوخ، ثابت اور اس قسم کے راویوں سے حدیث (معتبر) ہے، یعنی وہ ان میں پختہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: ضَاعَ كِتَابُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، فَكَانَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ حِفْظِهِ فَهَذِهِ قِصَّتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد رحمہ اللہ سے سنا کہ حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کی قیس بن سعد سے (روایات والی) کتاب ضائع ہو گئی تھی، تو وہ اپنے حافظے سے حدیثیں بیان کرتے تھے، اور یہ اس کا قصہ ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ثنا عَفَّانُ قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ: اسْتَعَارَ مِنِّي حَجَّاجٌ الْأَحْوَلُ كِتَابَ قَيْسٍ فَذَهَبَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ ضَاعَ.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حجاج احول نے وہ تحریر مجھ سے عاریۃً لی تھی اور اسے مکہ لے گئے، پھر کہہ دیا کہ وہ ضائع ہوگئی ہے۔