السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ذكر رواية عاصم بن ضمرة عن علي، رضي الله عنه بخلاف ما مضى في خمس وعشرين من الإبل وفيما زاد على مائة وعشرين من الإبل، وبيان ضعف تلك الرواية ورواية حماد بن سلمة عن قيس بن سعد باب: پچیس اونٹوں اور ایک سو بیس سے زائد اونٹوں کے بارے میں گزشتہ تفصیل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عاصم بن ضمرہ کی روایت کا ذکر، اور اس روایت کے ساتھ ساتھ قیس بن سعد سے مروی حماد بن سلمہ کی روایت کے ضعیف ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7261
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ وَزَادَ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ قَالَ: " تُرَدُّ الْفَرَائِضُ إِلَى أَوَّلِهَا فَإِذَا كَثُرَتِ الْإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ " وَهَذَا أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ مِنْ قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عاصم رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے اور یہ زیادہ بیان کیا کہ ”جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو فرائض اپنی ابتدا کی طرف لوٹا دیے جائیں گے اور جب اونٹ زیادہ ہو جائیں تو پھر ہر پچاس میں حقہ ہے“ اور سفیان رحمہ اللہ کو یہ قول اہل حجاز کے قول سے زیادہ پسند ہے۔