السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ذكر رواية عاصم بن ضمرة عن علي، رضي الله عنه بخلاف ما مضى في خمس وعشرين من الإبل وفيما زاد على مائة وعشرين من الإبل، وبيان ضعف تلك الرواية ورواية حماد بن سلمة عن قيس بن سعد باب: پچیس اونٹوں اور ایک سو بیس سے زائد اونٹوں کے بارے میں گزشتہ تفصیل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عاصم بن ضمرہ کی روایت کا ذکر، اور اس روایت کے ساتھ ساتھ قیس بن سعد سے مروی حماد بن سلمہ کی روایت کے ضعیف ہونے کا بیان
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي ذَكَرَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: قَالَ حَمَّادٌ: قُلْتُ لِقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ خُذْ لِي كِتَابَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَعْطَانِي كِتَابًا أَخْبَرَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لِجَدِّهِ، فَقَرَأْتُهُ فَكَانَ فِيهِ ذِكْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْ فَرَائِضِ الْإِبِلِ، فَقَصَّ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَعُدَّ فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةً وَمَا فَضَلَ فَإِنَّهُ يُعَادُ إِلَى أَوْلِ فَرِيضَةِ الْإِبِلِ، وَمَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ لَيْسَ فِيهَا ذَكَرٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ فَهَذَا فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ السُّلَيْمَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ أَخَذَهُ عَنْ كِتَابٍ لَا عَنْ سَمَاعٍ، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخَذَهُ عَنْ كِتَابٍ لَا عَنْ سَمَاعٍ وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ وَحَمَّادُ بْنُ ⦗١٥٩⦘ سَلَمَةَ وَإِنْ كَانَا مِنَ الثِّقَاتِ فَرِوَايَتُهُمَا هَذِهِ بِخِلَافِ رِوَايَةِ الْحُفَّاظِ عَنْ كِتَابِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَغَيْرِهِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ سَاءَ حِفْظُهُ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، فَالْحُفَّاظُ لَا يَحْتَجُّونَ بِمَا يُخَالِفُ فِيهِ وَيَتَجَنَّبُونَ مَا يَتَفَرَّدُ بِهِ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ خَاصَّةً وَأَمْثَالِهِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ جَمَعَ الْأَمْرَيْنِ مَعَ مَا فِيهِ مِنَ الِانْقِطَاعِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ..سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے دادا کے لیے تحریر لکھی جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ کتنے اونٹوں میں سے زکوۃ نکالی جائے۔ پھر حدیث بیان کی، یہاں تک کہ وہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں: ”جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس میں حقہ ہے، جو بچ رہیں تو انہیں پہلے فریضے کی طرف لوٹایا جائے گا اور جو پچاس سے کم ہوں تو اس میں بکریاں ہیں۔ ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری ہوگی مگر نر نہیں اور نہ ہی بوڑھی اور نہ ہی بکریوں میں سے عیب والی۔“
سو حفاظ اسے دلیل نہیں بناتے جس میں اختلاف ہو، بلکہ جس سند میں قیس بن سعد سے تفرد ہو یا اس جیسی کوئی اور، اس حدیث میں دو باتوں کو جمع کر دیا گیا ہے جس میں انقطاع موجود ہے۔