السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ذكر رواية عاصم بن ضمرة عن علي، رضي الله عنه بخلاف ما مضى في خمس وعشرين من الإبل وفيما زاد على مائة وعشرين من الإبل، وبيان ضعف تلك الرواية ورواية حماد بن سلمة عن قيس بن سعد باب: پچیس اونٹوں اور ایک سو بیس سے زائد اونٹوں کے بارے میں گزشتہ تفصیل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عاصم بن ضمرہ کی روایت کا ذکر، اور اس روایت کے ساتھ ساتھ قیس بن سعد سے مروی حماد بن سلمہ کی روایت کے ضعیف ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7265
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ " إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ " قَالَ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ وَغَيْرُهُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَهُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا نَقُولُ وَهُوَ مُوَافِقٌ لِلسُّنَّةِ، وَهُمْ يَعْنِي بَعْضَ الْعِرَاقِيِّينَ لَا يَأْخُذُونَ بِهَذَا فَيُخَالِفُونَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَالثَّابِتُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَهُمْ إِلَى قَوْلِ إِبْرَاهِيمَ وَشَيْءٍ يُغَلَّطُ بِهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب اونٹ ایک سو بیس سے زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہوگی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم یہی کہتے ہیں اور یہ سنت کے موافق ہے، بعض عراقی اسے نہیں لیتے، چنانچہ وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں جو نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور اس کی بھی جو ان کے نزدیک سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، اور ابراہیم کے قول کی طرف اور ایسی بات کی طرف چلے جاتے ہیں جو غلطی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔