أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ وَيلَبِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ " ثَوْبَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے اور ایک آدمی اپنے اونٹ سے گر پڑا، اس حال میں کہ وہ محرم تھا۔ اس کی گردن مروڑی گئی جس سے وہ فوت ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا“۔
أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ: فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ ⦗٥٤٩⦘ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی احرام کی حالت میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا۔ وہ اونٹ سے گر گیا اور گردن مڑ جانے سے فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑے پہناؤ اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا، بیشک وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا آئے گا۔“
وَأَمَّا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ: فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ: " كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جسے اس کی سواری نے گرا دیا تھا، وہ فوت ہو گیا اس حال میں کہ وہ محرم تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے غسل دو پانی اور بیری سے اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا۔ بیشک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائیں گے اور وہ تلبیہ کہتا ہوا آئے گا۔“
عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَلَا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ بِزِيَادَتِهِ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ وَكِيعٍ نَحْوَ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْوَجْهِ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَشَكَّ فِي ثَوْبَيْنِ أَوْ ثَوْبَيْهِ وَلَمْ يَذْكُرْ وَجْهَهُ وَزَادَ " وَلَا تُحَنِّطُوهُ ".
حافظ ثناء اللہ
وکیع سفیان سے ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں مگر انہوں نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپنا۔ بے شک وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ بِعَرَفَةَ فَوَقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ: أَقْصَعَتْهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ " أَوْ قَالَ: " فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ وَعَمْرٍو، وَقَالَ: " فِي ثَوْبَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عرفات میں ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے ساتھ اپنی اونٹنی پر تھا تو اس نے اسے گرا دیا اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو“ یا فرمایا: ”اس کے دونوں کپڑوں میں، اسے خوشبو نہ لگانا اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا، بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا اور وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ رَجَاءٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ قَالَ أَيُّوبُ: فَأَوْقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَوَقَصَتْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ ⦗٥٥٠⦘ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ " قَالَ أَيُّوبُ: " فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا "، وَقَالَ عَمْرٌو: " فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَحْدَهُ..
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی عرفات میں آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا تھا، اچانک وہ اپنی سواری سے گر پڑا تو اس بات کا تذکرہ پیارے پیغمبر ﷺ کے پاس کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگانا اور نہ ہی اس کے سر کو ڈھانپنا۔“ ایوب کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا تلبیہ کی حالت میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ أَيُّوبَ. إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: فِي ثَوْبَيْهِ، وَأَيُّوبُ قَالَ: فِي ثَوْبَيْنِ. أنبأ بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ، قَالَ أَيُّوبُ: فِي ثَوْبَيْنِ وَقَالَ عَمْرٌو: فِي ثَوْبَيْهِ. وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان کہتے ہیں: ہمیں حماد نے حدیث بیان کی اور وہ ایوب کی روایت کے الفاظ تھے، سوائے اس کے کہ انہوں نے ان کی یہ بات ذکر نہیں کی: ”پس یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی گئی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ". وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ عَنْ هُشَيْمٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، بِوِفَاقِ هُشَيْمٍ فِي الرَّأْسِ وَالطِّيبِ، إِلَّا أَنَّهُ رَوَى عَنْهُ: ثَوْبَيْهِ، وَرَوَى ثَوْبَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگانا اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا، یقیناً وہ قیامت کے دن بال جمائے ہوئے (تلبید کی حالت میں) اٹھایا جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ". كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَأَيْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي نُسْخَةٍ أُخْرَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي ثَوْبَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا دیا اور وہ محرم تھا، اسی حالت میں وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل دو پانی اور بیری سے اور سر کے علاوہ پورے جسم کو دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگانا، بیشک وہ قیامت کے دن بال جمائے ہوئے (تلبید کی حالت میں) اٹھایا جائے گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْقَبَّارِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْصَعَتْهُ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَأَنْ لَا تُمِسُّوهُ ⦗٥٥١⦘ بِطِيبٍ خَارِجَ رَأْسِهِ "، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: " خَارِجَ رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اس حال میں کہ وہ محرم تھا۔ وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا سو اس کی گردن ٹوٹ گئی، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے اور یہ کہ اسے خوشبو نہ لگائی جائے اور سر کو باہر رکھا جائے۔“ شعبہ کہتے ہیں: پھر انہوں نے مجھے حدیث بیان کی، اس کے بعد فرمایا: ”اس کے سر اور چہرے کو باہر رکھنا، بیشک وہ قیامت کے دن بال جمائے ہوئے (تلبید کی حالت میں) اٹھایا جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُلَبِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى هَكَذَا، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ بَعْضِ رُوَاتِهِ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا، وَالصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا، اسے اس کی اونٹنی نے گرا دیا تو وہ مر گیا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل دو اور خوشبو اس کے قریب نہ لانا اور نہ ہی اس کے چہرے کو ڈھانپنا، بیشک وہ تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔“
یہ اس کے بعض راویوں کا وہم ہے، سند اور متن دونوں میں۔
یہ اس کے بعض راویوں کا وہم ہے، سند اور متن دونوں میں۔
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ " وَقَالَ إِسْحَاقُ: " يُبْعَثُ يُلَبِّي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ: مَنْصُورٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدٍ، وَفِي مَتْنِهِ " وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ ". وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ فِي الرَّأْسِ وَحْدَهُ وَذِكْرُ الْوَجْهِ فِيهِ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَذَكَرَ الْوَجْهَ عَلَى شَكٍّ مِنْهُ فِي مَتْنِهِ، وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ الَّذِينَ لَمْ يَشُكُّوا وَسَاقُوا الْمَتْنَ أَحْسَنُ سِيَاقَةً أَوْلَى بِأَنْ تَكُونَ مَحْفُوظَةً، وَاللهُ أَعْلَمُ. ⦗٥٥٢⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا دیا اس حال میں کہ وہ محرم تھا اور وہ فوت ہو گیا، پس اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل اور کفن دو مگر اس کے سر کو نہ ڈھانپنا اور خوشبو اس کے قریب نہ لانا؛ کیونکہ وہ اٹھایا جائے گا تلبیہ کی حالت میں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے: منصور عن الحکم عن سعید، اور اس کے متن میں ہے: ”اس کے سر کو نہ ڈھانپو۔“ جماعت کی روایت صرف سر کے بارے میں ہے اور اس میں چہرے کا ذکر غریب ہے۔ ابوالزبیر نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کیا تو متن میں شک کے ساتھ چہرے کا ذکر کیا، اور اس جماعت کی روایت جنہوں نے شک نہیں کیا اور متن کو بہتر انداز میں بیان کیا، محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے۔ واللہ اعلم۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے: منصور عن الحکم عن سعید، اور اس کے متن میں ہے: ”اس کے سر کو نہ ڈھانپو۔“ جماعت کی روایت صرف سر کے بارے میں ہے اور اس میں چہرے کا ذکر غریب ہے۔ ابوالزبیر نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کیا تو متن میں شک کے ساتھ چہرے کا ذکر کیا، اور اس جماعت کی روایت جنہوں نے شک نہیں کیا اور متن کو بہتر انداز میں بیان کیا، محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے۔ واللہ اعلم۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ الْمَدِينِيِّ عَنْ سُفْيَانَ، مُخْتَصَرًا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَخَمِّرُوا وَجْهَهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَنَعَ نَحْوَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس کے چہرے کو ڈھانک دو مگر سر کو نہ ڈھکنا اور نہ ہی اسے خوشبو لگانا۔ بیشک وہ قیامت کے دن تلبیہ کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ جَدَّ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ تُوُفِّيَ بِالسُّقْيَا زَمَنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يُخَمِّرْ رَأْسَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ بن ولید، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں سفیا مقام پر فوت ہوا اس حال میں کہ وہ محرم تھا تو اس کے سر کو نہ ڈھانپا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا هَيْثَمٌ يَعْنِي ابْنَ جَمِيلٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا مَاتَ الْمُحْرِمُ لَمْ يُغَطَّ رَأْسُهُ حَتَّى يَلْقَى اللهَ مُحْرِمًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب محرم شخص فوت ہو جائے تو ”اس کے سر کو نہ ڈھانپا جائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کو احرام کی حالت میں ملے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمِّرُوا وُجُوهَ مَوْتَاكُمْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِيَهُودَ ". وَهَذَا إِنْ صَحَّ يَشْهَدُ لِرِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ فِي الْأَمْرِ بِتَخْمِيرِ الْوَجْهِ. إِلَّا أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظَ وَأَبَا سَعِيدِ بْنَ أَبِي عَمْرٍو أَخْبَرَنَا، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا بَعْضُ الْكُوفِيِّينَ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ. قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: هَذَا أَخْطَأَ فِيهِ حَفْصٌ فَرَفَعَهُ وَحَدَّثَنِي عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُرْسَلًا، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ كَمَا رَوَاهُ حَفْصٌ وَهُوَ وَهْمٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مردوں کے چہروں کو ڈھانپو اور یہود کی مشابہت نہ کرو۔“
اگر یہ روایت صحیح ہو تو چہرہ ڈھانپنے کے حکم میں ابراہیم بن ابی حرہ کی روایت کی شاہد ہے، لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس کا انکار کیا اور فرمایا: اس میں حفص نے غلطی کی کہ اسے مرفوع بیان کیا، جبکہ یہ عطاء سے مرسل ہے۔ ثوری وغیرہ نے بھی اسے ابن جریج سے مرسل ہی روایت کیا ہے، اور علی بن عاصم کی ابن جریج سے حفص جیسی روایت وہم ہے۔ واللہ اعلم۔
اگر یہ روایت صحیح ہو تو چہرہ ڈھانپنے کے حکم میں ابراہیم بن ابی حرہ کی روایت کی شاہد ہے، لیکن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس کا انکار کیا اور فرمایا: اس میں حفص نے غلطی کی کہ اسے مرفوع بیان کیا، جبکہ یہ عطاء سے مرسل ہے۔ ثوری وغیرہ نے بھی اسے ابن جریج سے مرسل ہی روایت کیا ہے، اور علی بن عاصم کی ابن جریج سے حفص جیسی روایت وہم ہے۔ واللہ اعلم۔