حدیث نمبر: 6653
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ ⦗٥٥٤⦘ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: وَثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ قَالَا: ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ثنا يَحْيَى، حَدَّثَنِي بَابُ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُتَّبَعَنَّ الْجِنَازَةُ بِصَوْتٍ وَلَا نَارٍ ". زَادَ هَارُونُ " وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا ". قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ: وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا بِنَارٍ كَمَا لَا تُتَّبَعُ بِنَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میت کے پیچھے آواز اور آگ کے ساتھ نہ چلو۔“ ہارون نے اس کو زیادہ کیا ہے کہ اس کے آگے بھی نہ چلا جائے۔
حدیث نمبر: 6654
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى فُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَوْصَى أَبُو مُوسَى حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، قَالَ: " إِذَا انْطَلَقْتُمْ بِجِنَازَتِي فَأَسْرِعُوا بِهِ الْمَشْيَ، وَلَا تَتَّبِعُونِي بِمِجْمَرٍ، وَلَا تَجْعَلُنَّ عَلَى لَحْدِي شَيْئًا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ التُّرَابِ، وَلَا تَجْعَلُنَّ عَلَى قَبْرِي بِنَاءً، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ حَالِقَةٍ، أَوْ سَالِقَةٍ، أَوْ خَارِقَةٍ. قَالُوا لَهُ: سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو بردہ رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی کہ جب سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت کی: جب میرے جنازے کو لے کر چلو تو تیز چلنا اور پیچھے آگ لے کر نہ چلنا اور نہ ہی میری لحد پر کچھ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو اور نہ ہی میری قبر پر کوئی عمارت بنانا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں بری ہوں ”پیٹنے والی، نوحہ کرنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی سے“، تو لوگوں نے ان سے کہا: کیا تم نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنی؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں، رسول اللہ ﷺ سے ہی“۔