السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المحرم يموت باب: محرم (احرام کی حالت میں) فوت ہو جائے
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ " وَقَالَ إِسْحَاقُ: " يُبْعَثُ يُلَبِّي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ: مَنْصُورٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدٍ، وَفِي مَتْنِهِ " وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ ". وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ فِي الرَّأْسِ وَحْدَهُ وَذِكْرُ الْوَجْهِ فِيهِ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَذَكَرَ الْوَجْهَ عَلَى شَكٍّ مِنْهُ فِي مَتْنِهِ، وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ الَّذِينَ لَمْ يَشُكُّوا وَسَاقُوا الْمَتْنَ أَحْسَنُ سِيَاقَةً أَوْلَى بِأَنْ تَكُونَ مَحْفُوظَةً، وَاللهُ أَعْلَمُ. ⦗٥٥٢⦘.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا دیا اس حال میں کہ وہ محرم تھا اور وہ فوت ہو گیا، پس اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل اور کفن دو مگر اس کے سر کو نہ ڈھانپنا اور خوشبو اس کے قریب نہ لانا؛ کیونکہ وہ اٹھایا جائے گا تلبیہ کی حالت میں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے قتیبہ سے روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے: منصور عن الحکم عن سعید، اور اس کے متن میں ہے: ”اس کے سر کو نہ ڈھانپو۔“ جماعت کی روایت صرف سر کے بارے میں ہے اور اس میں چہرے کا ذکر غریب ہے۔ ابوالزبیر نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کیا تو متن میں شک کے ساتھ چہرے کا ذکر کیا، اور اس جماعت کی روایت جنہوں نے شک نہیں کیا اور متن کو بہتر انداز میں بیان کیا، محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے۔ واللہ اعلم۔