السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المحرم يموت باب: محرم (احرام کی حالت میں) فوت ہو جائے
حدیث نمبر: 6646
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْقَبَّارِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْصَعَتْهُ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَأَنْ لَا تُمِسُّوهُ ⦗٥٥١⦘ بِطِيبٍ خَارِجَ رَأْسِهِ "، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: " خَارِجَ رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اس حال میں کہ وہ محرم تھا۔ وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا سو اس کی گردن ٹوٹ گئی، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”اسے پانی اور بیری سے غسل دیا جائے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے اور یہ کہ اسے خوشبو نہ لگائی جائے اور سر کو باہر رکھا جائے۔“ شعبہ کہتے ہیں: پھر انہوں نے مجھے حدیث بیان کی، اس کے بعد فرمایا: ”اس کے سر اور چہرے کو باہر رکھنا، بیشک وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔“