حدیث نمبر: 6636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أنبأ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ، حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا، وَكَانَ ⦗٥٤٨⦘ خُبَيْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا لِقَتْلِهِ، فَاسْتَعَارَ مِنِ ابْنَةِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَأَعَارَتْهُ، فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ حَتَّى أَتَتْهُ فَوَجَدْتُهُ مُخْلِيًا وَهُوَ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَهَا، فَقَالَ: " أَتَحْسَبِينَ أَنِّى أَقْتُلَهُ، مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ. فَإِنْ لَمْ يَأْخُذْهُ حَتَّى تُوُفِّيَ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: " مِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ: " لَا أَرَى أَنْ يُحْلَقَ عَنْهُ بَعْدَ الْمَوْتِ شَعَرٌ وَلَا يُجَزُّ ظُفُرٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو حارث بن نوفل نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا اور سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث بن نوفل کو غزوہ بدر میں قتل کیا تھا، تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس قیدی کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کے قتل کا پروگرام بنایا تو سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی بیٹی سے عاریۃً (ادھار) استرا طلب کیا تاکہ وہ زیرِ ناف بالوں کی صفائی کر لیں تو اس نے استرا دے دیا اور اس کی بچی چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور وہ اس سے بے خبر تھی۔ جب اس نے دیکھا تو بچی سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کی ران پر بیٹھی ہوئی تھی اور استرا سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا تو وہ گھبرا گئی اور انہوں نے اس کی گھبراہٹ کو دیکھا اور کہا: ”تیرا خیال ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ مگر میں ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے موسیٰ بن اسماعیل سے بیان کیا ہے: ”اگر اس نے فوت ہونے تک نہیں کاٹے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض احباب نے موت کے بعد بال کاٹنے اور ناخن تراشنے کو درست نہیں جانا اور ان میں سے بعض نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ شیخ نے بیان کیا کہ حسن رحمہ اللہ اور ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ناخن یا بال نہیں کاٹے جائیں گے۔ بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے میت کو غسل دیا اور استرا منگوایا اور زیرِ ناف بال مونڈے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”کیا تم میت کی صفائی نہیں کرو گے؟“ یعنی اس کے بال نہیں کاٹو گے، گویا وہ اسے ناپسند کرتی تھیں جبکہ اس کی کنگھی کی جا سکے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6636
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»